نکسلی حملہ اٹھارہ پولیس اہلکار ہلاک

نکسل باغی(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنحملہ آوروں کے نقصان بارے میں معلوم نہیں ہو سکا
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی
  • وقت اشاعت

مہاراشٹر کے گڈچرولی ضلع کے گھنے جنگلات میں گھات لگائے نکسلیوں نے جمعرات کے روز گشت کر رہی پولیس ٹیم پر دھاوا بول دیا جس میں اٹھارہ پولیس اہلکار ہو گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد سترہ تھی لیکن مہاراشٹر کے وزیر داخلہ جینت پاٹل نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھارہ ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس مخبر سریش ہے جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ نکسلیوں نے اس کی گردن اڑا دی تھی اور اسی کے بعد انہوں نے پولیس پارٹی پر بھی دھاوا بول دیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لہری پولیس سٹیشن کواطلاع ملی تھی کہ علاقے میں نکسلی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اس لیے تقریباً چالیس پولیس اہلکاروں پر مشتمل ٹیم وہاں گشت کے لیے نکلی۔ پولیس کے مطابق دوپہر ایک بجے کے قریب گھنے جنگلات میں پہلے سے موجود ڈیڑھ سو سے دو سو کے قریب مسلح نکسلیوں نے پولیس ٹیم پر حملہ کر دیا۔

پولیس کے مطابق حملہ اچانک ہوا۔ پولیس ٹیم نے سنبھل کر نکسلیوں پر بھی فائرنگ شروع کی۔ پولیس اور نکسلیوں کے درمیان تین گھنٹوں کی مڈبھیڑ کے بعد سترہ پولیس اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس حملہ میں تقریبا پندرہ ماؤ نواز بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ضلع کلکٹر اتل پٹنے کے مطابق بھمرا گڑھ تحصیل میں لہری پولیس سٹیشن سے محض دو کلومیٹر کی دوری پر یہ مڈبھیڑ ہوئی ہے۔ مسلح نکسلی گروپوں نے اس حملہ میں جدید اسلحہ کا استعمال کیا ہے۔

ڈسٹرکٹ سپرنٹینڈنٹ آف پولیس ایس جیا کمار نے بتایا کہ اس واردات کے فوراً بعد ہی بارڈر سکیورٹی فورسز کے دو پلاٹون موقع پر بھیج دیے گئے ہیں اور زخمیوں کو طیارے کے ذریعے ان گھنے جنگلات سے نکالنے کی کوشش جاری ہے۔

تیرہ اکتوبر کو مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس سے قبل اس طرح کے حملے نے حکومت کو دہلا دیا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ اشوک چوان نے اس حملے کے بعد فوری ردعمل میں کہا کہ یہ ایک جنگ کی طرح کی صورت حال ہو چکی ہے اور حکومت ماؤ نوازوں کے خلاف کارروائی کرنے کا عہد کر چکی ہے۔

ایک روز قبل ہی مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ممبئی میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ان حملوں کے پیش نظر اب ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا کہ وہ سکیورٹی فورسز کو ان کا مقابلہ کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیں۔

ماؤ نوازوں نے اس سے قبل رانچی میں اغواء کیے گئے ایک پولیس اہلکار کا سر کاٹ کر اس کی لاش پھینک دی تھی۔ نکسلی سرگرمیاں مہاراشٹر کے علاوہ چھتیس گڑھ اور آندھر پردیش میں بڑھ چکی ہیں۔

مہاراشٹر کا گڈچرولی علاقہ نکسلیوں کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ گھنے جنگلات سے گھرا یہ علاقہ گزشتہ دس برسوں سے نکسلیوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے۔ اس سال یہ تیسرا بڑا حملہ ہے اس سے قبل مئی میں سولہ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جس میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ فروری میں پندرہ پولیس اہلکار نکسلی حملے میں مارے جا چکے ہیں۔