کشمیر:’جھڑپوں میں چھ ہلاک‘

فوجی آپریشن
،تصویر کا کیپشنصرف چوبیس گھنٹوں کے دوران مختلف واقعات میں چھہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
  • وقت اشاعت

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں تشدد کے تازہ واقعات میں چھ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ وادی کے بالائی علاقوں اور جنگلی حصہ میں فوج نے وسیع پیمانہ پر تلاشی شروع کردی ہے۔

فوجی ترجمان جے ایس برار کے مطابق یہ تصادم سنیچر کی صبح بانڈی پورہ کے گریز سیکڑ میں اُس وقت ہوا جب غیر قانونی طور کنٹرول لائن عبور کرنے والے مسلح شدت پسندوں نے فوجی کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کی کال کے جواب میں گولی چلائی۔

ترجمان کے مطابق فوج کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم جوابی کارروائی میں دو مسلح شدت پسند مارے گئے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ دراندازوں کی تعداد زیادہ تھی اس لیے فوج نے وسیع علاقے میں تلاش شروع کردی ہے۔

ایک مقامی فوجی افسر نے بتایا کہ گریز سیکٹر میں پچھلے تین ہفتوں میں یہ دوسری دراندازی ہے۔ اس سے قبل یہاں ایک جھڑپ میں دو مسلح درانداز ہلاک کیے گئے تھے ۔

ادھر جموں کے ڈوڈہ ضلع میں سنیچر کی صبح فوج نے ایک کارروائی کے دوران لیاقت گوجر نامی ایک مطلوب ’شدت پسند‘ کو ہلاک کردیا۔ ادھمپور میں واقع فوج کی شمالی کمان کے ترجمان کرنل ڈی کے کچاری نے بتایا کہ لیاقت سن دو ہزار چھ سے سرگرم تھا اور فوج کو اس کی شدت کے ساتھ تلاش تھی۔

واضح رہے کہ جمعہ کے روز بھی جنوبی ضلع پلوامہ میں پولیس نے ایک شدت پسند کو ہلاک کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ سرینگر میں خودکشں حملہ کی تیاری کر رہا تھا۔

جمعہ کو ہی بانہال میں ایک تصادم کے دوران دو شدت پسند مارے گئے۔ اس طرح صرف چوبیس گھنٹوں کے دوران مختلف واقعات میں چھہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

دریں اثناء سرینگر کے مضافاتی علاقہ کھریو میں پچھلے چار روز سے فوجی آپریشن جاری ہے۔ یہاں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان تصادم میں تین فوجی زخمی ہوگئے تھے جبکہ دو شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

فوج کے مطابق یہ تصادم پہاڑی اور جنگلی علاقے میں ہوا لہٰذا عین ممکن ہے کہ باقی شدت پسند گھنے جنگلات کا فائدہ اُٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہوں۔

فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پچھلے ایک ماہ کے دوران کشمیر اور جموں کے پہاڑی اور جنگلی علاقوں میں تصادم آرائیاں ہوئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شدت پسندوں نے حکمت عملی تبدیل کی ہے۔ اب وہ آبادی والے علاقوں نہیں بلکہ بالائی جنگلی خطوں میں پناہ لے کر فوج پر حملے کرتے ہیں۔‘