مہاراشٹر میں انتخابی تیاریاں

انڈیا میں سکیورٹی
،تصویر کا کیپشنسکیورٹی فورسز کے دستے انتہائی حساس علاقوں میں بدستور گشت کر رہے ہیں
وقت اشاعت

مہاراشٹر کے ضلع گڈچرولی میں ماؤنواز حملوں کے خطرے کے پیش نظر ریاست میں انتخابات کے موقع پر حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

مقامی پولیس کے علاوہ نیم فوجی دستوں کی پینتیس کمپنیاں ریاست کے حساس علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں۔ ریاستی چیف سیکرٹری جانی جوزف کے مطابق ریاستی حکومت نے مرکز سے اس سلسلہ میں مدد طلب کی تھی اور اس کے بعد جموں اور جالندھر یونٹ کے نیم فوجی دستوں کو ان شورش زدہ علاقوں میں بھیجا گیا ہے۔

ساحلی علاقوں میں بحریہ پولیس کے دستے ، ہیلی کاپٹر اور ہندوستانی فضائیہ کے طیارے فضا میں نگرانی کے لیے پرواز کرتے رہیں گے۔

ریاستی چیف الیکشن کمشنر دیباشیش چکرورتی کے مطابق نکسلیوں کے گڑھ گڈچرولی میں تین اور گوندیا حلقے میں دو سیٹوں کے لیے ووٹنگ اندھیرا ہونے سے قبل ہی دوپہر تین بجے ختم کر دی جائے گی۔

پوری ریاست میں تیرہ اکتوبر کو اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں۔ ممبئی پر ہونے والے حملوں کے بعد یہ پہلا ریاستی الیکشن ہے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعہ ممبئی پر ممکنہ حملوں کی اطلاعات کے پیش نظر اس مرتبہ الیکشن میں صرف مقامی پولیس ہی نہیں دیگر ریاستوں سے بھی پولیس طلب کر لی گئی ہیں۔

ممبئی میں مقامی پولیس کے علاوہ کیرلا، کرناٹک اور تمل ناڈو سے فوجی دستے طلب کیے گئے ہیں۔ یہ دستے شہر کے انتہائی حساس علاقوں میں بدستور گشت کر رہے ہیں۔

دیگر ریاستوں سے طلب کردہ پولیس دستوں کے علاوہ سینٹرل ریزرو پولیس فورس، سی آئی ایس ایف، سریع الحرکت فورس، فساد کنٹرول کرنے والی پولیس ٹیم، ہوم گارڈز کے ساتھ کرائم برانچ کے خفیہ دستے الیکشن کے دن ڈیوٹی پر مامور رہیں گے۔

جوائنٹ پولیس کمشنر ( نظم و نسق ) ہیمانشو رائے کے مطابق وہ شہر میں پرامن الیکشن چاہتے ہیں اور شہر کے حساس پولنگ بوتھ علاقوں میں پولیس دستوں کا مارچ سماج دشمن عناصر کے حوصلے پست کرنے کے لیے ضروری ہے۔