تین بھارتی ریاستوں میں پولنگ شروع

فائل فوٹو ، بھارتی انتخاب
،تصویر کا کیپشنمہاراشٹر میں کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کا اتحاد دس سال سے اقتدار میں ہے
وقت اشاعت

ہندوستان کی تین ریاستوں، مہاراشٹر، ہریانہ اور اروناچل پردیش میں اسمبلی انتخابات کے لیے منگل کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

لوک سبھا انتخابات کے بعد انتشار کا شکار بھارتیہ جنتا پارٹی اور فاتح کانگریس کے لیے ان انتخابات میں کافی کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

بی جے پی اگر مہارشٹر میں اپنی اتحادی جماعت شو سینا کے ساتھ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ پارٹی کے لیے کافی عرصے کے بعد کوئی اچھی خبر ہوگی۔

انتخابی مہم عمومی طور پر پر امن رہی لیکن گزشتہ ہفتے ماؤ نواز باغیوں نے مہارشٹر میں سترہ پولیس والوں کو ہلاک کرکے یہ پیغام دیا کہ وہ انتخابی عمل میں رخنہ ڈال سکتے ہیں۔ اس کے بعد سے سکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔

کانگریس کے لیے پارٹی صدر سونیا گاندھی اور جنرل سیکریٹری راہل گاندھی اور بی جے پی کے لیے لال کرشن اڈوانی، راج ناتھ سنگھ اور سشما سواراج جیسے سرکردہ رہنماؤں نے بڑے پیمانے پر انتخابی مہم میں حصہ لیا۔

مہاراشٹر میں کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کا اتحاد دس سال سے اقتدار میں ہے۔

ادھر ہریانہ میں کانگریس لگاتار دوسری مرتبہ الیکشن جیتنے کی کوشش میں ہے۔ وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا نے اپنے دور اقتدار میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کو اپنی انتخابی مہم کی بنیاد بنایا ہے۔ اور کانگریس اعلی کمان کی جانب سے یہ اعلان کیا جاچکا ہے الیکشن جیتنے کی صورت میں وہ وزیر اعلی کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

پارلیمانی انتخابات میں کانگریس نے ہریانہ کی دس میں سے نو سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور عام تاثر یہ ہےکہ پارٹی کا پلڑا اس مرتبہ بھی بھاری رہے گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ریاست میں حزب اختلاف منتشر ہے اور ووٹ کئی جگہ تقسیم ہونے کا اندیشہ ہے۔ لیکن مہاراشٹر میں مقابلہ سخت ہونے کی امید ہے۔

ہریانہ اسمبلی میں نوے، مہاراشٹر اسمبلی میں دو سو اٹھاسی اور اروناچل پردیش میں ساٹھ سیٹیں ہیں۔ ان انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی بائیس اکتوبر کو کی جائے گی۔