’پولیس نے وحشیانہ کارروائی کی تھی‘

ممبئی پولیس: فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنممبئی پولیس پر الزام تھا کہ اس نے جان بوجھ کر مسجد پر فائرنگ کی تھی
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

ممبئی ہائی کورٹ نے سن ترانوے کے فرقہ وارانہ فسادت کے دوران سلیمان عثمان بیکری پر فائرنگ کو پولیس کی ظالمانہ اور وحشیانہ کارروائی قرار دیا ہے۔

ممبئی ہائی کورٹ کی جسٹس مردلا بھاٹکر نے جمعہ کے روز اپنے فیصلہ میں کہا کہ سن ترانوے کے فرقہ وارانہ فسادت کے دوران پولیس نے بیکری کے اندر گھس کر جو فائرنگ کی تھی وہ قطعی غیر ضروری تھی۔ جج نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ فرقہ وارانہ فسادات کے دوران انسانیت کی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہتائی حساس طریقہ سے حالات سے نمٹنا ضروری ہوتا ہے۔

جسٹس مردلا بھاٹکر بیکری فائرنگ سے متاثر ہونے والے ایک شخص نورالہدی کی داخل کردہ عرضداشت کی سماعت کر رہی تھیں۔ نورالہدی نے ممبئی سیشن کورٹ سے بیکری فائرنگ کے مبینہ ملزمین کو ڈسچارج کرنے کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

جسٹس بھاٹکر نے اپنے فیصلہ میں فائرنگ کو غیر ضروری اور ظالمانہ قرار دیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ ملزمین کے خلاف اس بات کے ناکافی ثبوت ہیں کہ ان کی ٹیم مسجد میں لوگوں کو ہلاک کرنے کے مشترکہ ارادے سے گئی تھی۔

سیشن کورٹ نے اس وقت کے جوائنٹ پولیس کمشنر آر ڈی تیاگی سمیت آٹھ پولیس اہلکاروں کو مسجد میں گھس کر بلا وجہ فائرنگ کے الزام سے خارج کر دیا تھا۔ اس فائرنگ میں آٹھ افراد ہلاک اور بارہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

سن بانوے میں ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں دو قسطوں میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ نو جنوری سن ترانوے کو اس وقت کے جوائنٹ پولیس کشمنر اور سپیشل آپریشن سکواڈ ٹیم کے سربراہ تیاگی ممبئی میں محمد علی روڈ پر واقع سلیمان عثمان بیکری پہنچے تھے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کو مسجد میں گھس کر فائرنگ کا آرڈر دیا تھا۔ فسادات کی تفتیش کرنے والے جسٹس سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پولیس ٹیم بیکری کے ساتھ ہی متصل مدرسہ دارالعلوم محمدیہ میں بھی گھس گئی تھی اور وہاں سے طالب علموں اور مہتمم کو باہر نکال کر مارا تھا۔ عرضی گزار نورالہدی مہتمم کے بیٹے ہیں۔

جسٹس سری کرشنا نے اپنی سفارشات میں آر ڈی تیاگی کو قصور وار قرار دیا تھا۔ تاہم حکومت نے تیاگی اور ان کی ٹیم کو کلین چٹ دے دی تھی لیکن بعد میں عوام میں اس پر غم و غصہ کے بعد خصوصی ٹاسک فورس نے تیاگی اور ان کی ٹیم کے اہلکاروں کے خلاف کیس درج کیا تھا۔

سیشن کورٹ نے تیاگی کے فائرنگ کے آرڈر کو صحیح قرار دے کر انہیں اس کیس سے ڈسچارج کر دیا تھا۔

مہاراشٹر جمعیت علماء کے جنرل سکریٹری مولانا مستقیم اعظمی نے عدالت کے فیصلہ کی تعریف کی اور کہا کہ جج نے جو مشاہدہ کیا ہے وہ بالکل صحیح ہے لیکن حکومت بدنیت ہے، شروع سے ہی وہ تیاگی اور دیگر پولیس اہلکاروں کا ساتھ دیتی آئی ہے۔ ’اگر حکومت کی نیت صاف ہوتی تو وہ عدالت کے سامنے سارے ثبوت پیش کرتی تو تیاگی آج اس طرح آزاد نہیں گھومتے لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا ہے بلکہ اس نے ہمیشہ فسادات میں قصوروار پولیس اہلکاروں کو ترقی دی۔‘

تیاگی کو بھی پولیس کمشنر کے عہدے پر بٹھا دیا گیا تھا۔

ممبئی کے مسلمانوں میں حکومت کے خلاف کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ جسٹس سری کرشنا کمیشن نے فسادات کی تحقیقات کے بعد جو سفارشات پیش کی تھیں ان پر کانگریس حکومت نے وعدے کے بعد بھی عمل درآمد نہیں کیا۔ ممبئی فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔