حکومت مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ: الفا

- مصنف, سبیر بھومک
- عہدہ, بی بی سی نیوز کلکتہ
- وقت اشاعت
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں میں سب سے زیادہ سرگرم علیحدگی پسند تنظيم ’لبریشن فرنٹ آف آسام‘ یعنی الفا کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن خود حکومت کی جانب سے مذاکرات کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔
ای میل کے ذریعے بھیجے گئے اپنے پیغام میں الفا کے سربراہ اروند راج کھووا نے مرکزي حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ جہاں مرکزی حکومت دیگر علیحدگي پسند گروپوں کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کی شرط بغیر بات چیت کر رہی ہے وہیں الفا پر ہتھیار چھوڑنے کے بعد بات چیت کی شرط لگائی جا رہی ہے۔
فی الوقت یہ واضح نہیں ہے کہ کیا الفا کا شدت پسند دھڑا بھی بات چیت کی تجویز کی حمایت کر رہا ہے یا نہیں کیونکہ اس سے قبل بھی جب بات چیت کی شروعات ہوئی تھی تو شدت پسندوں نے مذاکرات کی حمایت نہیں کی تھی۔
اپنے بیان میں اروند راج کھووا نے کہا کہ ’مذاکرات شروع کرنے کے لیے مرکزی حکومت دوہرا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، ایک طرف وہ ناگا باغی تنظیم سے بنا اس شرط کے بات کر رہی ہے کہ وہ پہلے ہتھیار چھوڑيں لیکن ہم سے بات چیت کے لیے پہلے ہتھیار چھوڑنے کی شرط رکھی جا رہی ہے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ہمیشہ سے آسام میں پرامن سمجھوتے کی حمایت کرتے رہے ہیں لیکن مرکزي حکومت یہ اشارے کر رہی ہے کہ مذاکرات سے مسئلے کا حل نکالنے میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے‘۔
سنہ 1992 میں بھی ایک مرتبہ اروند راج کھووا کی صدارت میں الفا رہنماؤں نے بھارتی حکومت سے مذاکرات کیے تھے لیکن تنظیم کے شدت پسند دھڑے کے سربراہ پریش بروا نے ان مذاکرات کی مخالفت کی اور وہ کوشش ناکام ہو گئی تھی۔
الفا تنظیم 1979 میں آسام کی آزادی کے لیے تشکیل دی گئی تھی ۔















