کشمیرمیں ہڑتال، نظام ِزندگی معطل

کشمیر میں ہڑتال کی ایک فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنہڑتال کے سبب تجارتی اور تعلیمی سرگرمیان ٹھپ ہیں۔
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں منگل کو مکمل ہڑتال ہوئی ہے جس کے نتیجے میں کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئی ہیں۔

ہڑتال کی کال سید علی گیلانی نے ستائیس اکتوبر کو باسٹھ برس قبل وادی میں بھارتی افواج کی آمد کے خلاف دی تھی۔ اس کال کی حمایت میر واعظ گروپ کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ سمیت کئی دوسرے رہنماؤں نے بھی کی ہے۔

سید علی گیلانی اور شبیر احمد شاہ نے اس موقع پر اپنے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ یہ دن کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور اسی دن سے کشمیریوں کے لیے مسلسل عذاب کا دور شروع ہوا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے وزیراعظم منموہن سنگھ کے مجوزہ دورے کے خلاف بدھ کو بھی ہڑتال کرنے کی اپیل کی ہے۔ منموہن سنگھ بدھ کو وادی کے دو روزہ دورے پر آرہے ہیں جس دوران وہ قاضی گنڈ ریلوے لائن کا افتتاح کرینگے۔

وادی کے انسپکٹر جنرل پولیس فاروق احمد نے بتایا کہ وادی میں سکیورٹی کے کڑے انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ان خبروں کی تردید کی جن میں بتایا گیا تھا کہ بعض مسلح شدت پسند گروپوں نے وزیراعظم کے دورے کے دوران حملے کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ستائیس اکتوبر سے متعلق عام مؤرخین کا کہنا ہے کہ اگست اُنیس سو سینتالیس میں جب برٹش انڈیا دو آزاد مملکتوں میں تقسیم ہوگیا تو جموں کشمیر کے اُس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے میں تاخیر کی ۔ بعد ازاں اکتوبر کے مہینے میں جب پونچھ اور دوسرے خطوں میں مہاراجہ کے انخلاء کی خاطر تحریک شروع ہوئی اور پاکستان کے صوبہ سرحد سے مسلح قبائلی جنگجو کشمیر میں داخل ہوئے تو مہاراجہ نے بھارت سے فوجی امداد طلب کی۔

چنانچہ ستائیس اکتوبر کو انڈین آرمی کشمیر پہنچیں جس کے عوض مہاراجہ نے جموں کشمیر کا مشروط الحاق بھارتی ریاست کے ساتھ کیا۔ لیکن بعض دانشور حلقے اس خیال سے متفق نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ الحاق کبھی ہوا ہی نہیں۔ یہاں تک کہ برطانوی مؤرخ السٹر لیمب نے بھی اپنی کتاب ’ کشمیر دی ڈس پیوٹڈ لیگیسی‘ میں اسی خیال کی توثیق کی ہے۔

سید علی گیلانی بھارتی فوج کے کشمیر وارد ہونے کو ’بھارت کی جارحیت‘ کہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ برٹش انڈیا تقسیم ہونے کے وقت ہی بھارتی قیادت نے کشمیر پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس منصوبے پر عمل کے لیے اُس وقت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے مقبول کشمیری رہنما شیخ محمد عبداللہ کو ’شیشے میں اُتارا تھا‘۔ تاہم بھارت نواز حلقے سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے مسلح قبائلیوں ں کو کشمیر بھیج کر مہاراجہ کو بھارت کے ساتھ الحاق کرنے پر مجبور کردیا۔

اس دن کی مناسبت سے جہاں سرکاری طور کشمیر میں تقاریب کا انعقاد ہوتا ہے وہیں علیٰحدگی پسند حلقے اس روز ہڑتال اور یوم سیاہ کا اعلان کرتے ہیں۔ منگل کو ستائیس اکتوبر کے حوالے شمالی ضلع بارہمولہ میں فوج نے ’سِکھ وار میموریل‘ کے قریب بھارتی پرچم لہرایا اور قبائلی حملہ آوروں کے ساتھ تصادم میں مارے گئے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

سرینگر کے ہوائی اڈے پر بھی بھارتی فضائیہ نے ایک سادہ اور مختصر تقریب کا انعقاد کرکے اُن فوجی افسروں کو یاد کیا جو اکتوبر کی اُس لڑائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔ سرینگر میں واقع فوج کی پندرہویں کور کے ہیڈکوارٹر اور دوسرے چھوٹے بڑے فوجی کیمپوں میں بھی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔