کینیڈا سے جوہری تعاون بحال

وقت اشاعت

کینیڈا نے تیس سال پہلے بھارت سے جوہری شعبے میں تعاون پر لگائی پابندی کو اٹھاتے ہوئے بھارت سے پرامن مقاصد کے لیے جوہری شعبے میں تعاون کو بحال کرنے کے لیے بات چیت مکمل کر لی ہے۔

کینیڈا نے بھارت سے جوہری شعبے میں تعاون پر اس وقت پابندی عائد کر دی تھی جب بھارت نے کینیڈا کے تعاون سے لگائے گئے جوہری ریکٹر سے حاصل کردہ پلوٹونیم کو سمائلنگ بدھا کے نام سے انیس سو چوہتر میں کیے گئے ایٹمی تجربے میں استعمال کیا تھا۔

ان تجربات کے بعد پوری دنیا نے بھارت سے ایٹمی شعبے میں تعاون پر پابندی عائد کر دی تھی۔

یہ پابندی گزشتہ سال ستمبر میں امریکہ سے جوہری شعبے میں تعاون کےایک معاہدے پر دستخط کے بعد اٹھا لی گئی تھیں۔

بھارت نے انیس سو چوہتر میں پہلا جوہری تجربہ کیا تھا
،تصویر کا کیپشنبھارت نے انیس سو چوہتر میں پہلا جوہری تجربہ کیا تھا

کینیڈا اور بھارت کے وزراء اعظم جو ان دنوں ٹرینیڈاڈ میں دولتِ مشترکہ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم سٹیفن ہارپر نے کہا کہ اس سے کینیڈا کی کمپنیوں کو دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔

بھارت کے وزیر اعظم نے کہا جوہری توانائی کی بھارت کو بہت ضرورت ہے۔

بھارت نے اٹھارہ مئی انیس سو چوہتر میں سمائلنگ بدھا کے نام سے ایٹمی تجربات کیے تھے اس کے بعد انیس سو اٹھاسی میں بھارت نے ایک مرتبہ پھر گیارہ اور تیرہ مئی کو پوکھران میں پانچ ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کیے۔

اس کے جواب میں انتیس مئی کو پاکستان نے بلوچستان کے علاقے چاغی میں دھماکے کیے تھے۔