کرکرے کی گمشدہ جیکٹ کی ایف آئی آر

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی
- وقت اشاعت
ممبئی کی ایک عدالت کے کہنے پر ممبئی پولیس نے ممبئی حملوں کے دوران ہلاک ہوئے انسداد دہشت گردی عملہ کے سربراہ ہیمنت کرکرے کی پراسرار طور پر غائب ہونے والی بلیٹ پروف جیکٹ کے لیے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
مجگاؤں کی عدالت نے سماجی کارکن سنتوش ڈاؤنڈکر کی عرضی پر سماعت کے بعد اپنے فیصلہ میں جے جے مارگ پولیس سٹیشن کو کیس درج کرنے کا حکم دیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ممبئے حملوں کی رات جب ہیمنت کرکرے دیگر پولیس افسران کے ساتھ حملہ آوروں کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے تب ان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جے جے ہسپتال لایا گیا تھا جہاں سے ان کی وہ بلیٹ پروف جیکٹ غائب ہے۔
جے جے مارگ پولیس سٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر کھانڈے راؤ پاٹل کے مطابق انہوں نے تعزیرات ہند کی دفعات 379 (چوری ) اور 120-B مجرمانہ سازش جیسے الزامات کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کیا ہے۔
ہیمنت کرکرے اور ان کے ساتھی پولیس افسران کا قتل کاما ہسپتال کے باہر ہوا تھا جو آزاد میدان پولیس سٹیشن کی حدود میں آتا ہے۔
سنتوش نے اس سے قبل آزاد میدان پولیس سٹیشن میں بلیٹ پروف گمشدگی کی رپورٹ درج کرنے کے لیے پولیس سے کہا تھا لیکن پولیس کے انکار کے بعد انہوں نے عدالت کا سہارا لیا۔
سنتوش نے اسی کے ساتھ ممبئی ہائی کورٹ میں بھی مفاد عامہ کی عرضداشت داخل کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کرکرے کو جو جیکٹ پہننے کے لیے دیا گیا تھا وہ ناقص کوالٹی کا تھا۔
کرکرے کی موت کے بعد ان کی بیوی کویتا نے حق معلومات قانون کا سہارا لیتے ہوئے یہ دریافت کرنے کی کوشش کی تھی کہ آخر ان کے شوہر نے جو بلیٹ پروف جیکٹ اس رات پہنا تھی وہ کہاں گئی؟ کویتا کا الزام ہے کہ اگر وہ جیکٹ اچھی کوالٹی کی ہوتی تو شاید ان کے شوہر آج زندہ ہوتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آرٹی آئی کے تحت ملی اس اطلاع کے بعد ہی لوگوں کو پتہ چلا کہ کرکرے کی جیکٹ غائب ہے۔ مہاراشٹر کے وزیراعلی اشوک چوان اور ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے ممبئے حملوں کی برسی کے موقع پر کرکرے کی بلیٹ پروف جیکٹ کی گمشدگی پر معافی مانگی تھی۔
کرکرے انسداد دہشت گردی عملہ کے سربراہ تھے ان کی ہلاکت پر شروع سے ہی شک و شبہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سابق مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور عبدالرحمن انتولے نے ان کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور ایک سابق آئی جی ایس ایم مشرف نے اس پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا عنوان ہے ' ہو کلڈ کرکرے '



















