حملے اور سیاست

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی
- وقت اشاعت
ممبئی حملوں کی تفتیش کرنے والی رام پردھان کمیٹی رپورٹ سیاسی اتھل پتھل کا شکار ہو گئی ہے۔ جہاں ایک طرف مہاراشٹر کی حزب اختلاف کی جماعت اسمبلی کے اجلاس میں حکومت سے اس سلسلے میں جواب طلب کرنے کی تیاری میں ہے وہیں دوسری جانب حکومت نے اس رپورٹ کو اس سے قبل ہی اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان مادھو بھنڈاری نے بی بی سی کو بتایا کہ رام پردھان کمیٹی کی رپورٹ کو اب تک کانگریس حکومت نے عوام کے سامنے پیش نہیں کیا اس لیے اس اجلاس میں اپوزیشن حکومت سے جواب طلب کرے گی۔
بی جے پی ترجمان کا کہنا تھا کہ رپورٹ پر مکمل بحث کی اجازت طلب کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سابق پولیس کمیشنر حسن غفور اور ایڈیشنل پولیس کمشنر اشوک کامٹے کی بیوہ ونیتا کامٹے کے ذریعے عائد کیےگئے الزامات کی تفتیش کا بھی مطالبہ کرے گی۔
تاہم کانگریس ترجمان نظام الدین راعین کا کہنا تھا کہ حکومت کی تشکیل کے بعد یہ پہلا سرمائی اجلاس ہے اور حکومت بذات خود رپورٹ کو اجلاس میں پیش کرے گی۔ کانگریس ترجمان کا دعوی تھا کہ حکومت ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کی تیاری میں بھی ہے۔
گزشتہ برس ممبئی پر ہوئے حملوں کے بعد اس وقت کے وزیراعلی اشوک چوان نے سابق آئی اے ایس افسر رام پردھان اور سابق خصوصی سکریٹری وی بال چندرن کی سربراہی میں ممبئی حملوں میں پولیس اور اتنظامیہ کی کارکردگی کی مکمل تفتیش کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی۔ ممبئی حملوں کے بعد حکومت پر انٹیلی جنس اور پولیس کی ناکامی کے الزمزات عائد ہو رہے تھے۔
رام پردھان کی رپورٹ

رام پردھان نے اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی جس میں انہوں نے انٹیلی جنس ایجنسی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگایا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھ اگست سن دو ہزار چھ سے حملے تک کئی انٹیلی جنس رپورٹیں تھیں کہ لشکر طیبہ کے فدائین ملک میں بحری راستوں کے ذریعہ داخل ہوں گے اور بیک وقت کئی ٹھکانوں پر حملے ہوں گے لیکن الرٹ کی یہ فائیلیں ایک میز سے دوسری میز تک پھرتی رہیں اس پر عمل نہیں ہوا۔
کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ پولیس ڈائرکٹر جنرل آفس میں انٹلیجنس رپورٹ پہنچی لیکن اس پر عمل میں کافی کنفیوژن تھا۔ ریاستی داخلہ سکریٹری محض پیپر ورک میں الجھے رہتے ہیں اور کسی نے اس الرٹ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہوٹل تاج ، ہوٹل اوبیرائے ، کیفے لیوپولڈ اور سی ایس ٹی پر حملے کا ذکر تھا لیکن کاما ہسپتال اور ناریمان ہاؤس کا بطور خاص کہیں ذکر نہیں ملتا ہے۔ ہوٹل تاج اور ہوٹل اوبیرائے انتظامیہ پر کمیٹی نے تنقید کی کہ ہوٹلوں کو اس بارے میں انتباہ کر دیا گیا تھا لیکن ہوٹل انتظامیہ نے سیکوریٹی کی طرف دھیان نہیں دیا۔
رپورٹ میں پولیس کے ردعمل کی کافی تعریف کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے بہت کم وقت میں ردعمل ظاہر کیا لیکن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک پولیس دونوں ہوٹل اور ناریمان ہاؤس پہنچتی حملہ آوروں نے اپنی پوزیشن سنبھال لی تھی۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کے پاس جدید اسلحہ اے کے 47 ، دستی بم اور آر ڈی ایکس تھےجبکہ ممبئی پولیس افسران کے پاس محض ایک پستول اور کانسٹیبل کے پاس لاٹھی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پولیس کی خصوصی تربیت یافتہ ' کوِک رسپانس ٹیم' کو دو برسوں سے فائرنگ کی تربیت نہیں ملی تھی کیونکہ پولیس کے پاس کارتوس کا ذخیرہ نہیں تھا۔ پولیس کے بلیٹ پروف جیکٹ تک نہیں تھے۔
کوِک رسپانس ٹیم نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کی ٹیم ہوٹل تاج کے چھ منزلے تک پہنچ گئی تھی لیکن ان کی سربراہی کے لیے کوئی نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس فورس میں صحیح قیادت کی کمی کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں اس وقت کے پولیس کمشنر حسن غفور پر تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ سٹینڈرڈ آپریٹنگ پریکٹس ( ایس او پی ) کے مطابق پولیس کمشنر کو سارے حالات کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے تھا اور جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا، انسداد دہشت گردی عملہ چیف ہیمنت کرکرے کو فیلڈ میں رہنا چاہیے تھا جبکہ جوائنٹ پولیس کمشنر نظم و نسق کے ایل پرساد کو کنٹرول روم سنبھالنا چاہیئے تھا۔
رپورٹ میں راکیش ماریا کی تعریف کی گئی ہے لیکن کاما ہسپتال کے پاس ہیمنت کرکرے اشوک کامٹے اور وجے سالسکر کی موت اشوک کامٹے کی بیوہ ونیتا کامٹے نے اپنی کتاب میں راکیش ماریا کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگایا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممبئی پولیس صرف فساد اور ہنگامے روکنے کی اہل ہے اس طرح کے حملوں سے نمٹنے میں اس کی تربیت نہیں ہوئی ہے۔ ڈائرکٹر جنرل آف پولیس نے کمیٹی کو بتایا کہ مہاراشٹر پولیس کو پینسٹھ کروڑ روپے کے اسلحہ کی ضرورت تھی کیونکہ ہر برس ایک پولیس کو کم سے کم چالیس راؤنڈ فائر کرنے چاہئے لیکن گزشتہ پانچ برسوں سے انہیں ہر سال صرف تین کروڑ روپے ہی دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اسلحہ کی کافی کمی ہے۔
کمیٹی نے ممبئی ٹرین دھماکہ کی رپورٹ کے بارے میں بھی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ممبئی پر ہوائی حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
کانگریس حکومت نے کمیٹی کی سفارشات کے بعد ممبئی پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے لیکن انہیں ریاستی حکومت کی اپنی مبینہ خامیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ حزب اختلاف کے بہت سے سوالات کا سامنا کرنا ہو گا۔



















