آسام میں دھماکہ: متعدد ہلاک

آسام دھماکہ(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے۔
    • مصنف, سبیر بھومک
    • عہدہ, بی بی سی نیوز کلکتہ
  • وقت اشاعت

شمالی مشرقی ریاست آسام میں فوجی اڈے کے قریب ایک بازار میں زور دار دھماکہ ہوا ہے جس میں کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ پینتیس زخمی ہوئے ہیں۔

آسام پولیس کے ایک اہلکار بھاسکر جیوتی مہانتا نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ سونت پور ضلع کے میساماری مارکیٹ میں ہوا ہے۔ یہ مارکیٹ بھارتیہ فوج کے اس ہیڈکوارٹر کے باہر ہے جس کا کام شدت پسندی کے خلاف کاروائی کرنا اور ملک کی چینی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے۔

مسٹر مہانتا کا کہنا ہے ' ایسا لگتا ہے جن افراد نے بم لگائے تھے انکا ارادہ ان فوجیوں کو ہلاک کرنا تھا جو اس بازار میں آتے جاتے ہیں'۔

پولیس کے مطابق چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ 35 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مسٹر مہانتا کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت نازک ہے۔

خفیہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کے پیچھے علیحدگی پسند تنظيم یونائیٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (الفا) کا ہاتھ ہوسکتا ہے کیونکہ حال ہی میں تنظيم کےبعض اعلی رہنماؤں کو بنگلہ دیش میں گرفتار کرکے ہندوستان کے حوالے کیا گیا ہے۔

الفا کے دو سینئر رہنما ششادھار چودھری اور چترابون ہزاریکا کی گرفتاری کے بعد ایسا ہی ایک دھماکہ 22 نومبر کو آسام کے نالباری علاقے میں ہوا تھا۔

جمعرات کو ہونے والا دھماکہ بھی ایسے ہی حالات میں ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے الفا کے چیئرمین اربندا راجکھوا اور تنظيم کے ' فوجی ونگ کے ڈپٹی چیف'راج برووا کی بنگہ دیش میں گرفتارکرکے ہندوستان کے حوالے کیا گیا تھا۔

حالانکہ دھماکے کے بعد الفا کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔

جمعرات کی صبح الفا کے فوجی ونگ کے سربراہ پریش برووا نے کہا تھا کہ اگر حکومت انکے سامنے کوئی شرائط نہ رکھےتو مذاکرات کے لیے تیار ہے۔