’تیلنگانہ ریاست کے قیام کی منظوری‘

تلنگانہ رشٹرہ سمیتی کے چندر شیکھر راؤ اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کر رہے
،تصویر کا کیپشنتلنگانہ رشٹرہ سمیتی کے چندر شیکھر راؤ اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کر رہے
وقت اشاعت

ہندوستان میں وفاقی حکومت نے آندھرا پردیش کو تقسیم کرکے ایک علیحدہ تیلنگانہ ریاست کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بدھ کی رات دیر گئے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ کے روزیا کے درمیان ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا ’اس صلاح مشورے کے بعد میں یہ بیان دے رہا ہوں۔ ایک علیحدہ تیلنگانہ ریاست کے قیام کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اور اس کے لیے ایک مناسب قرارداد آندھرا اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔‘

اس سے قبل کانگریس کی کور کمیٹی نے بھی علیحدہ ریاست کے پچاس سال پرانے مطالبے اور ریاست میں پر تشدد احتجاج کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جس میں کانگریس صدر سونیا گاندھی اور کابینہ کے سینیئر ارکان نے حصہ لیا۔

لیکن پی چدمبرن نے یہ واضح نہیں کیا کہ ملک کی انتیسویں ریاست کے قیام کا عمل کب تک مکمل کیا جائے گا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق آندھرا پردیش کی اسمبلی میں آج ہی ایک قرارداد پیش کی جاسکتی ہے۔

ایک علیحدہ تیلنگانہ ریاست کے قیام کے لیے تیلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ گیارہ روز سے بھوک ہڑتال پر تھے اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت نازک تھی۔

پی چدمبرم کے بیان کے بعد کے سی راؤ نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ دارالحکومت حیدرآباد شہر تینلگانہ ریاست کے حصے میں آئے گا یہ آندھرا کے پاس ہی رہے گا۔ لیکن کے سی راؤ کے معاونین کا کہنا ہے کہ انہیں حیدرآباد شہر کے بغیر تینلنگانہ ریاست قبول نہیں ہوگی۔

ریاستی اسمبلی میں قرراداد کی منظوری کے بعد پارلیمان میں ایک بل پیش کیا جائے گا جس کی منظوری کے لیے تو تہائی اکثرییت درکار ہوگی کیونکہ یہ آئین میں ترمیم کا بل ہوگا۔

علیحدہ ریاست بنانے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں معاشی ترقی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ترجیح آندھرا کے دیگر علاقوں کو دی جا رہی ہے۔

اس سے قبل ٹی آر ایس نے اپنا مطالبہ منوانے کے لیے ہزتال کی اپیل کی تھی۔ نامہ نگار عمر فاروق کے مطابق حیدر آباد شہر جس کی کل آبادی آٹھ ملین ہے پولیس کی تعیناتی کے بعد ایک قلعے کی مانند ہو گیا ہے۔ تقریباً اٹھارہ ہزار پولیس اور نیم فوجی دستے حیدر آباد میں تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر کو آنے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔