وزیرستان میں ’پانچ شدت پسند ہلاک‘

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں مزید پانچ شدت پسند ہلاک جبکہ دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔
شدت پسندوں کے خلاف یہ آپریشن گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے جاری ہے۔
پیر کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق سروکئی کے علاقے مولے خان سرئی میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران ایک طالبان جنگجو عبدالغفور سمیت چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے تاہم اس جھڑپ میں سکیورٹی کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا ہے۔
بیان کے مطابق ورزی اوبہ اور خونی راغزئی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی بدستور جاری ہے اور سکیورٹی فورسز کو علاقے کے لوگوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کوٹکئی کے علاقے ملک شاہی اور سترا غورلمہ میں سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے رزمک اور مکین کے علاقے میں بھی اپنی پوزیشن مستحکم کرلی ہے اور نواز کوٹ پر شدت پسندوں نے راکٹ سے حملہ کیا ہے جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے تحصیل مکین کے علاقے تنگہ پتئی میں نو بارودی سرنگوں کو تباہ کرکے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرلیا ہے۔اور اس دوران جھڑپ میں ایک شدت پسند ہلاک جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں سوات میں جاری آپریشن کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے نجیگرام کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران چار شدت پسندوں کو ہلاک کیاگیا ہے اور ملک آباد، مانیری اور گنبد میرا میں تین شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ بائی قلعہ میں ایک شدت پسند نے خود کو سکیورٹی حکام کے حوالے کیا ہے۔















