شوپیاں: لڑکی کے قتل پر علاقے میں خوف

کشمیر پولیس
،تصویر کا کیپشنپولیس نے قتل کی ان وارداتوں میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے خصوصی آپریشن شروع کردیا ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیاں کے بالائی علاقہ کیلر میں مسلح افراد نے ایک رہائشی مکان میں زبردستی داخل ہوکر بیس سالہ لڑکی شیرازہ مقبول کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔

پولیس کے مطابق اس علاقہ میں گزشتہ چند ہفتوں میں ایسے چھ واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں اب تک تین نوجوان لڑکیوں اور ایک ساٹھ سالہ عورت سمیت چھ باشندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

قتل کی مسلسل وارداتوں سے شوپیاں کی خواتین میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تاہم پولیس نے قتل کی ان وارداتوں میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے خصوصی آپریشن شروع کردیا ہے۔

واضح رہے کسی بھی مسلح شدت پسند تنظیم نے شیرازہ کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم شوپیاں کے پولیس سربراہ شاہد معراج نے بی بی سی کو بتایا کہ اس قتل میں کالعدم کشمیری مسلح تنظیم حزب المجاہدین کے شدت پسندوں کا ہاتھ ہے۔

شاہد معراج کے مطابق اس واردات میں ملوث شدت پسندوں کے خلاف ضلع کے بالائی علاقوں میں فوج کی مدد سے خصوصی آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔

مسٹر معراج کا کہنا ہے ’ کیلر کے محمد مقبول کے گھر میں منگل کی رات حزب المجاہدین کے مسلح افراد داخل ہوگئے اور اس کی بیٹی شیرازہ کی شناخت کر کے اس کے سر اور چہرے پر گولیاں برسائیں۔ شیرازہ موقعہ پر ہی ہلاک ہوگئی۔‘

اس علاقے میں بار بار ایسی وارداتیں کیوں رونما ہو رہی ہیں؟ اس حوالے سے پولیس افسر شاہد معراج کہتے ہیں’بالائی خطوں میں مسلح شدت پسندوں کو پناہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لوگ انہیں پسند نہیں کرتے ، لہٰذا وہ دہشت پھیلاتے ہیں اور دہشت کے بل بوتے پر ہی وہ لوگوں کی حمایت حاصل کرتے ہیں۔‘

علیحدگی پسند تنظیم مسلم خواتین مرکز کی سربراہ زمردوہ حبیب نےشوپیاں میں لڑکیوں کے قتل سے متعلق بتایا ’ہم شیرازہ اور اس جیسی دوسری خواتین کے قتل کو سب سے بڑی دہشت گردی قرار دیتے ہیں۔ خواتین تو کشمیر میں سب سے زیادہ مظلوم طبقہ ہے۔ایک ایسے وقت جب ہم شوپیاں میں دو خواتین سے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد انہیں قتل کرنے پر ماتم کر رہے ہیں اور انصاف کے لیے پکار رہے، ہماری بہنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

انسانی حقوق کے لے سرگرم تنظیموں کے اتحاد کولیشن آف سِول سوسائٹیز کے ترجمان خُرم پرویز کہتے ہیں کہ نامعلوم مسلح افراد کے ذریعہ قتل کی وارداتیں ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بدقسمتی سے حکومت نے بھی اور مسلح شدت پسندوں نے بھی وقت وقت پر اپنے اپنے مفادات کے لیے نامعلوم بندوق برداروں کو استعمال کیا۔ جو اس قتل میں ملوث ہے وہ کشمیریوں کا دشمن ہے دوست نہیں۔‘