نتن گھٹکری بی جے پی کے نئے صدر

بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے راج ناتھ سنگھ کے استعفے کے بعد ان کی جگہ نتن گھٹکری کو نیا صدر منتخب کیا ہے۔
عام انتخابات میں ناکامی کے بعد سے بی جے پی کئی تبدیلیوں سے کے دور سے گزر رہی ہے اورگزشتہ روز پارٹی کے سینئیر رہنما لال کرشن اڈوانی نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما کی حیثیت سے استعفی دیا تھا۔
باون سالہ نتن گھٹکری کا تعلق ریاست مہاراشٹر کے شہر ناگ پور سے ہے اور وہ ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس سے بہت قریبی مانے جاتے ہیں۔
صدر بننے کے بعد انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ بطور صدر پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے کام کریں گے۔ ان کے مطابق’یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور پارٹی نے جو مجھے ذمہ داریاں دی ہیں انہیں میں پورا کرنے کی کوشش کروں گا‘۔
نتن گھٹکری نے پارٹی کارکنان سے تعاون کی درخواست کی اور کہا کہ اگر ان کی مدد حاصل رہی تو ان کے لیے کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ ’میں کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے آپ میں سے کسی کو بھی یہ لگے کہ اس کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے‘۔
پارٹی کے دفتر میں ان کی امیدواری کا اعلان سابق صدر راج ناتھ سنگھ نے کیا اور کہا کہ پارٹی نے انہیں اتفاق رائے سے صدر منتخب کیا ہے۔ اس موقع پر لال کرشن اڈوانی، سشما سواراج، اور ارون جیٹلی سمیت پارٹی کے تقریبا سبھی رہنما موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق بی جے پی میں یہ تبدیلیاں آر ایس ایس کی ہدایات پر کی گئی ہیں۔
پارٹی میں ان تبدیلیوں کے تحت اب سشما سواراج لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنما ہوگي جبکہ ارون جیٹلی ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں یہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔ صدارت نتن گھٹکری کو سونپی گئی ہے جو صلاح و مشورہ کے بعد مزید تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔
گزشتہ عام انتخابات میں ناکامی کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعض رہنما خود پارٹی کی قیادت پر نکتہ چینی کرتے رہے تھے تب سے اس میں تبدیلی کی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔ آر ایس ایس نے بھی کہا تھا کہ اب نوجوانوں کو پارٹی سنبھالنی چاہیے۔ پارٹی صدر راج ناتھ سنگھ پر تو خاص طور پر نکتہ چینی ہوئی تھی اور تبھی سے یہ بات طے مانی جارہی تھی کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















