گورکھالینڈ پر مذاکرات بے نتجہ

- مصنف, سبیر بھومک
- عہدہ, بی بی سی نیوز کلکتہ
- وقت اشاعت
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال میں علیحدہ ریاست گورکھالینڈ کے مطالبے پر مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اور گورکھا لینڈ کے لیے تحریک چلانے والے گورکھا جن مکتی مورچا کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں۔
تاہم علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرنے والے گورکھا جن مکتی مورچا نے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
گورکھا جن مکتی مورچا کے جنرل سیکریٹری روشن گری کا کہنا ہے ’ہم نے کہا ہے کہ آئندہ مذاکرات میں مرکزی وزیر داخلہ اور ریاستی وزیر داخلہ شامل ہوں۔ ہمیں امید کہ ایسا ہوگا۔‘
مذاکرات میں حصہ لینے والے مرکزی داخلہ سیکریٹری جی کے پلے نے کہا کہ وہ جن مکتی مورچا کا موقف حکومت کے سامنے پیش کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے جن مکتی مورچا سے کہا ہے کہ میں انکی بات وزیر داخلہ تک پہنچا دوں گا اور آئندہ پینتالیس دنوں میں آگے کی حکمت عملی کے بارے میں انہیں بتادوں گا۔‘
مذاکرت میں شامل مغربی بنگال کے چیف سیکریٹری اشوک موہن چکرورتی نے کہا کہ ’جن مکتی مورچا کا کہنا ہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ مذاکرات میں شامل ہوں۔ انکی یہ درخواست میں ریاستی حکومت کے سامنے پیش کروں گا۔‘
مذاکرات کے بعد روشن گری نے ایک ریلی میں کہا کہ ’آج کی مذاکرات کا موضوع گورکھالینڈ تھا۔ ہم نے کسی اور مسئلے پر بات چیت نہیں کی۔ ہم نے یہ واضح کیا ہم کسی اور یقین دہانی پر نہیں مانے گیں۔ یہ مذاکرات ہماری تحریک کا بڑا قدم ہے۔‘
دارجیلنگ کے پہاڑیوں میں بسے نیپالی نژاد لوگ گورکھا لینڈ کے نام سے ایک ریاست کا مطالبہ برطانوی زمانے سے ہی کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کی آزادی کے بعد بھی اس کے لیے آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ سن اسّی کی دہائی میں علاقائی رہنما سبھاش گھیشنگ نے گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ نامی تنظیم کے جھنڈے تلے اس کے لیے مسلح جدوجہد شروع کی۔ پر تشدد جد وجہد میں تقریباً ایک ہزار لوگ ہلاک بھی ہوئے جس کے بعد سن اٹھاسی میں دارجیلنگ گورکھا ہل کونسل کا قیام عمل میں آیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں حیدرآباد میں علیحدہ ریاست تیلنگانہ کے مطالبے پر تیلنگانہ راشٹری سمیتی کے سربراہ چندر شیکھر راؤ نے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال کی تھی اور ان کی ہڑتال کے گیارہویں دن مرکزی حکومت نے علیحدہ تیلنگانہ ریاست کے قیام کی منظوری دے دی تھی۔ تیلنگانہ کی منظوری کے بعد گورکھالینڈ کا مطالبہ کرنے والوں نے اپنی تحریک تیز کردی ہے۔



















