حافظ سعید اور لکھوی سے نہیں ملا، قصاب

اجمل امیر قصاب
،تصویر کا کیپشناجمل قصاب کا کہنا ہے کہ اسے پولیس حراست میں ٹارچر کیا گیا تھا
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

مبئی حملوں کے مبینہ مشتبہ ملزم اجمل امیر قصاب نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرانے کے تیسرے روز خصوصی جج کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے پولیس حراست میں پہلی مرتبہ حافظ سعید اور ذکی الرحمن لکھوی کی تصویر کو دیکھا تھا۔

اجمل نے کہا کہ لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ کا نام انہوں نے پہلی مرتبہ پولیس کے منہ سے سنا ہے۔

جج تہیلیانی نے قصاب سے اس کے اقبالیہ بیان سے متعلق سوالات کیے۔ قصاب نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ کبھی بھی جہاد کی تربیت کے لیے مریدکے گیا تھا۔ اس نے جج سے کہا کہ وہ جہلم کے پاس سرائے عالمگیر میں کھانا پکانے کا کام کیا کرتا تھا۔

قصاب نے مجسٹریٹ کے سامنے جو اقبالیہ بیان دیا تھا اس میں قصاب نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو مریدکے میں جہاد کی تربیت دی گئی تھی۔ جس کے دوران حافظ سعید اور ذکی الرحمن لکھوی کیمپ میں آتے تھے۔

قصاب نے سوالات کے دوران جواب دیتےہوئے کہا کہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس سے ممبئی آیا تھا اور ایک ٹکٹ کے لیے اس سے دو ہزار چار سو روپے لیے گئے تھے۔

جج نے عدالت میں بتایا کہ پولیس تفتیش کے دوران قصاب کی گیارہ مرتبہ شناختی پریڈ ہوئی تھی۔ جس کے جواب میں قصاب نے کہا کہ ''ایک گواہ نے اسے پہچاننے کے بجائے دوسرے گواہ کے اوپر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ لیکن پولیس والے نے اسے پھر سے دیکھنے کے لیے کہا اور میرے پاس آکر اسے آنکھ کے اشارے سے بتایا۔ عدالت میں اسے پیش نہیں کیا گیا۔''

قصاب نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ وہ شناختی پریڈ کے دوران لوگوں کو میری تصویر دکھا کر لاتے تھے۔ ایک نے مجھے دیکھ کر کہا کہ یہ تاج ہوٹل میں تھا۔ جج کے سوال کرنے پر قصاب نے ہنس کر کہا کہ وہ اس کا ہم شکل ہوگا کیونکہ ''میں تو حملوں میں شامل ہی نہیں تھا۔''

قصاب کا اقبالیہ بیان چیف میٹروپولیٹین مجسٹریٹ رما واگھولے کے سامنے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جج کے کیے گئے سوالات کے جواب میں قصاب نے کہا کہ اس نے مجسٹریٹ سے کہا تھا کہ وہ اپنا بیان جیل میں دینا چاہتا ہے کیونکہ یہاں باہر پولیس والے ہیں جو مجھے دھمکا کر لاتے ہیں انہوں نے مجھے الیکٹرک شاک دیا تھا۔

مجسٹریٹ نے انہیں اس الزام کے بعد دوسرے روز اپنا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کہا۔ قصاب نے اس بات کو قبول کیا کہ جب انہوں نے مجسٹریٹ سے کہا کہ وہ آزادانہ طور پر اپنا بیان ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں اس روز ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا لیکن قصاب نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے جو بیان مجسٹریٹ کو دیا تھا وہ یہ بیان نہیں ہے پولیس نے اسے تبدیل کر دیا ہے۔

قصاب کا یہ بھی الزام ہے کہ اس نے کبھی کوبیر کشتی نہیں دیکھی تھی پولیس والوں نے اس کی تصویر دکھائی تھی اور وہی تصویر ایف بی آئی والوں نے بھی اسے دکھائی تھی۔

قصاب کا یہ بیان ابھی مزید دو روز جاری رہے گا۔ جج اس سے مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے اقبالیہ بیانات کے بارے میں سوالات کریں گے۔

کریمنل پروسیجر ایکٹ کی دفعہ تین سو تیرہ کے تحت قصاب کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔