تیلنگانہ میں مظاہرے، ہڑتال

- مصنف, عمر فاروق
- عہدہ, بی بی سی ، حیدرآباد
- وقت اشاعت
آندھرا پردیش میں علیحدہ تیلنگانہ ریاست کی حمایت میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ تیلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مظاہرے اور بھوک ہڑتال کی کال دی ہے۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے تیس دسبمر کو ’تیلنگانہ بند‘ یا ہڑتال کی کال دی ہے۔
تیلنگانہ علاقے کے سبھی سیاسی گروپوں، پینسٹھ غیر سرکاری سٹوڈنٹ، خواتین اور سماجی کارکنان پر مشتمل تیلنگانہ جوائنٹ کمیشن کمیٹی علیحدہ ریاست کے لیے تحریک میں شامل ہیں۔
کمیٹی کے صدر پروفیسر کونڈا رام نے بی بی سی کو بتایا ’علاقے کے سبھی سیاسی گروپ ایک جٹ ہیں۔ پیر اور منگل کو احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ بھوک ہڑتال بھی جاری رہے گی۔ ان دو دنوں کے دوران شہروں اور دیہی علاقوں میں مظاہرے ہوں گے تاکہ مرکزی حکومت پر تیلنگانہ ریاست بنانے کے لیے دباؤ بنایا جاسکے۔‘
ایک طرف جہاں ریاست حکومت کے تیرہ سابق وزراء نے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی سے ملاقات کی ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے پیر کو ’جے آندھرا‘ نامی تحریک شروع کی ہے جس کے تحت عوام کو یہ بتایا جائے گا کہ کس طرح سے چھوٹی ریاستو ں کے قیام سے حکومتیں بہتر طریقے سے کام کرسکتی ہیں۔
واضح رہے کہ علیحدہ تیلنگانہ ریاست کا مطالبہ ویسے تو بہت پرانا ہے لیکن کچھ ہفتے قبل تیلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے سربراہ چندر شیکھر راؤ نے بھوک ہڑتال پر جاکر اس مطالبے کی طرف مرکزی حکومت کا دھیان مرکوز کیا تھا جس کے بعد مرکزی حکومت نے تیلنگانہ ریاست کے قیام کو ہری جھنڈی دے دی تھی لیکن بعد میں حکومت نے یہ کہا تھا کہ علیحدہ ریاست کے قیام پر از سر نو غور کیا جائے گا جس کے بعد ریاست میں ایک بار پھر پرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔
تیلنگانہ ریاست کے مطالبے کی حمایت میں عثمانیہ یونیورسٹی کے طلباء نے تین جنوری کو ’حیدرآباد چلو‘ ریلی کی کال دی ہے اور دعوی کیا ہے کہ تقریباً پانچ لاکھ طلباء اس ریلی میں حصہ لے گیں۔ حالانکہ انتظامیہ نے اس ریلی کی اجازت نہیں دی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اگر طلباء یا ديگر افراد نے یونیورسٹی کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں روکا جائے گا۔















