شوپیاں کیس: بین الاقوامی تفتیش کا مطالبہ

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
- وقت اشاعت
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے شوپیاں میں گزشتہ سال دو خواتین کی پراسرار موت سے متعلق بھارت کی مختلف این جی اوز نے بین الاقوامی سطح کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کو خط لکھ کر ان کا تعاون طلب کیا ہے۔ واضح رہے ان اموات کے خلاف کشمیر میں پرتشدد تحریک چلی تھی اور طویل تفتیش کے بعد دسمبر میں سی بی آئی نے عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں خواتین پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں۔ تاہم سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس رپورٹ کو غیر معتبر قرار دیا جب کہ خود وزیراعلیٰ نے عدالت کے حتمی فیصلہ تک اپنا ردعمل محفوظ رکھا تھا۔
ایک امریکی تعلیمی ادارے کی پروفیسر، ممبئی ہائی کورٹ کے وکیل مِہیر دیسائی، معروف بھارتی صحافی گوتم نولکھا اور کشمیر کے معروف انسانی حقوق رضاکار پرویز امروز وغیرہ نے گزشتہ دنوں کشمیر میں ناانصافیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ایک ’بین الاقوامی سِول ٹربیونل‘ کے قیام کا اعلان کیا۔
ٹربیونل کے رابطہ کار خُرم پرویز نے بی بی سی کو بتایاکہ ’ہم نے وزیراعلیٰ کو خط لکھا ہے جس میں عالمی اداروں کے ماہرین کی ایک ٹیم کی وادی آمد سے متعلق ان کا تعاون طلب کیا گیا ہے۔‘ خرم کا کہنا ہے کہ ٹربیونل نے دُنیا کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے ماہر تفتیش کاروں کو سری نگر مدعو کیا گیا ہے اور وہ یہاں شوپیاں کیس کی نئے سرے سے تفتیش کرینگے۔
خرم کہتے ہیں کہ ’اس کام کے لیے ہمیں پولیس ریکارڑ، ڈاکٹروں کے بیان اور گواہوں کے ساتھ ملاقات وغیرہ کے لیے حکومت کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔‘
کشمیر کے سینیئر وزیر اور وزیراعلیٰ کے قریبی ساتھی علی محمد ساگر نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’ہم خط کے متن کا جائزہ لیں گے اور حکومتی ارکان کے ساتھ صلاح مشورہ کے بعد ہی اپنا ردعمل ظاہر کرینگے۔‘















