ایک اور بھارتی طالب علم پرحملہ

آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں ایک اور بھارتی طالب علم پر بعض لوگوں نے حملہ کیا ہے اور اس کے بعد انہیں جلانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ طالب علم کو تشویش ناک حالت میں شہر کے ایک ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔
سڈنی میں بی بی سی کے نامہ نگار نک برائنٹ کے مطابق اس بھارتی نژاد طالب علم پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ ایک ڈنر پارٹی سے واپس اپنی بیوی کے ساتھ گھر جا رہا تھا۔
راستے میں اس نوجوان پر ایک گروپ نے حملہ کیا اور پھر اس پر کچھ چھڑکنے کے بعد آگ لگانے کی بھی کوشش کی۔ اس نوجوان کو میلبورن کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا اور اس کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب بھارت نے آسٹریلیا میں رہنے والے بھارتیوں پر حملوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور وہاں کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایسے حملے روکنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔
چند روز قبل ایک نوجوان نتن گرگ کی ایک حملہ میں موت ہوگئی تھی جس کے بعد بھارت نے آسٹریلیا جانے والے اپنے شہریوں کے لیے وارنگ جاری کی تھی اور کہا تھا کہ وہاں جانے سے پہلے احتیاطی تدابیر کی جائیں۔
اس مشورہ کے بعد آسٹریلیا کی حکومت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کا ملک غیر ملکیوں کے لیے محفوظ ہے اور ایسے کسی ہدایت نامے کی ضرورت نہیں ہے۔
بھارت میں ان حملوں پر سخت رد عمل ظاہر کیا گيا ہے اور بعض حلقے ان حملوں کی وجہ نسلی پرستی بتا رہے ہیں۔ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ سبھی حملے نسل پرستی کی وجہ سے نہیں ہوئے۔
اس وقت دلی میں ’غیر مقیم ہندوستانیوں‘ کی کانفرنس چل رہی ہے جس سے وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی خطاب کرتے ہوئے آسٹریلیا میں بھارتی نژاد افراد پر ہونے والے حملوں پر تشویش ظاہر کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن بہت لوگوں کا اعتراض اس بات پر ہے کہ اس کانفرنس میں ’غیر مقیم ہندوستانیوں‘ کی سکیورٹی کے پہلو پر کوئی بات نہیں ہورہی جبکہ وہ کئی ممالک میں تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔



















