ہاکی حکام اور کھلاڑیوں کی ملاقات بےنتیجہ

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
- وقت اشاعت
بھارتی ہاکی فیڈریشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہاکی کھلاڑی تربیتی کیمپ میں واپس نہ آئے تو نئی ٹیم بنا لی جائے گی۔
آئندہ ماہ اٹھائیس فروری سے نئی دہلی میں ورلڈ کپ ہاکی مقابلہ شروع ہونے والا ہے اور انڈین ہاکی ٹیم کے بائیس کھلاڑیوں کے لیے مہاراشٹر کے شہر پونے میں تربیتی کیمپ شروع کیا گیا تھا لیکن کھلاڑیوں نے ماہانہ تنخواہ اور اضافی بونس کے مطالبہ کو لے کر ہڑتال شروع کر دی تھی۔
ان کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ انہیں ماہانہ پچیس ہزار روپے ، کارگزاری بونس ، ہر ماہ تنخواہ میں اضافہ چاہئے۔ دوسری جانب فیڈریشن کا کہنا تھا کہ بائیس کھلاڑیوں کو دینے کے لیے کروڑوں کی رقم نہیں ہے۔ کھلاڑیوں کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ اسپانسرز سے ملنے والی رقم میں سے انہیں بھی حصہ دیا جائے۔
اسی سلسلے میں منگل کو ہاکی انڈیا فیڈریشن اور کھلاڑیوں کے درمیان پانچ گھنٹے تک بات چیت ہوئی تاہم یہ گفتگو بے نتیجہ رہی اور اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہوئے ٹیم انڈیا کے سارے بائیس کھلاڑی میٹنگ چھوڑ کر باہر نکل گئے۔
اس کے بعد ہاکی انڈیا کے سربراہ اے کے مٹو نے کھلاڑیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ یا تو کھیلیں یا پھر انہیں ٹیم سے خارج کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پونےکا تربیت کیمپ کل سے بند کر دیا جائے گا اور ان کی جگہ ملک کے کونے کونے سے کھلاڑیوں کی ایک نئی ٹیم بنائی جائے گی‘۔
کرکٹ انڈیا فیڈریشن کے ممبر اکرم خان نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ کھلاڑی اپنے رویے پر اڑے ہیں۔’وہ بے وقوف ہیں اور اب نئی ٹیم بنانے کا وقت آ گیا ہے‘۔ خان کا کہنا تھا کہ ’ کھلاڑیوں کو وطن کے لیے کھیلنا چاہیے نہ کہ پیسوں کے لیے اور انہوں نے ایسے وقت میں احتجاج شروع کیا ہے جب ورلڈ کپ نزدیک ہے‘۔
فیڈریشن کے ذرائع کا دعوٰی ہے کہ اگر کھلاڑی اپنے رویے پر اڑے رہے تو سات فروری کو فیڈریشن کے الیکشن کے بعد نئی ٹیم کی تشکیل کی جائے گی اور فوری طور پر انہیں ورلڈ کپ کے لیے تیار کیا جائے گا۔
ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں نے اس وقت میڈیا سے بات کرنے سے منع کر دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ وہ کل سے کھیلنے آئیں گے یا پھر اپنے فیصلے پر قائم رہیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماضی میں دنیا میں پہلے نمبر پر رہ چکی ٹیم انڈیا اس وقت زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہاکی قومی کھیل کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن اسے کرکٹ کی طرح اتنے اچھے اسپانسرز نہیں ملتے اس لیے بھی اس کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے۔



















