ہندوستان: ماؤنوازوں سے مذاکرات کی کوشش

    • مصنف, سووجیت بگچی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی
  • وقت اشاعت

ہندوستان کے سرکردہ انسانی حقوق کے کارکن سوامی اگنیویش حکومت کے ساتھ جنگ بندی کے لیے ماؤنواز باغیوں کے ساتھ متعدد دور کی بات چیت کرچکے ہیں۔

ماؤنواز باغی(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنہندوستان کی حکومت نے ماؤنواز باغیوں کے خلاف زبردست مہم شروع کر دی ہے

سوامی اگنی ویش نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزیر داخلہ پی چدامبرم کی درخواست پر ماؤنواز باغیوں سے بات چیت کی ہے۔

سوامی اگنی ویش کو حکومت کی جانب سے جو خط لکھا گیا ہے اس کی ایک کاپی بی بی سی کے پاس ہے جس میں پی چدامبرم نے کہا ہے کہ حکومت ماؤنواز باغیوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے اگر ماؤنواز باغی جلد ہی تشدد کا راستہ چھوڑ دیں۔

اس خط میں پی چدامبرم نے ماؤنواز باغیوں کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا ہے۔

سوامی اگنیویش نے بی بی سی کو بتایا ے کہ انکی ماؤنواز باغیوں کے رہنماؤں کے ساتھ چھ بات چیت ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بات چیت مثبت رہی ہے۔

حکومت نے جو خط لکھا ہے اس میں ماؤنواز باغیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بہتر گھنٹوں میں تشدد کا راستہ ترک کردیں۔ ماؤنواز باغیوں کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بہتر گھنٹے میں جنگ بندی سے کچھ حاصل نہیں اور اس مدت کو بڑھایا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ماؤنواز باغیوں کی جانب سے کیے گئے حملوں میں شدت آئی ہے اور ان حملوں میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی داخلی سیکورٹی کے لیے ماؤنواز باغی سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ ماؤنواز باغیوں کی تحریک کو پست کرنے کے لیے حکومت نے ' گرین ہنٹ' نامی آپریشن شروع کیا ہے۔

ماؤنوازوں کا کہنا ہے کہ بات چیت سے پہلے جیل میں بند انکے ساتھیوں کو رہا کیا جائے