کشمیرمیں ہڑتال، کشیدگی
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
- وقت اشاعت
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں گزشتہ دنوں پولیس کاروائی میں سترہ سالہ طفیل متو کی موت کے خلاف سوموار کو پوری وادی میں ہڑتال کی گئی۔

اس دوران تعلیمی اداروں کے امتحانات ملتوی کئے گئے جبکہ بڑی تعداد میں شادیاں بھی منسوخ کی گئیں۔ ہڑتال کی کال علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے دی تھی۔ انہوں نے ایک بیان میں مقامی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ 'کشمیریوں کی نسل کشی ' کی سازش میں 'بھارتی حکام کا ساتھ دے رہی ہے۔
واضح رہے جمعہ کی شام سرینگر کے راجوری کدل علاقہ میں مظاہرین کے خلاف پولیس کاروائی میں سعیدہ کدل کے رہنے والے طفیل متو کی موت ہوگئی۔ متو کے اقرباء نے بتایا کہ پولیس نے اسے اشک آور گیس کے ایک گولے کا نشانہ بنایا تاہم پولیس نے پہلے اس واقعہ کو 'پراسرار قتل' قرار دیا اور بعد میں اس کی تفتیش شروع کردی۔
جمعہ کی شام سے ہی سرینگر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ سنیچر کو کرفیو کے باوجود ہزاروں لوگوں نے طفیل کے جنازے میں شرکت کی۔ اس روز مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوئے جن میں کئی نوجوان زخمی ہوگئے۔ ان میں سے صفاکدل کے چوبیس سالہ محمد رفیق بنگرو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ بنگرو کے لواحقین نے ہڑتال کے دوران سوموار کو لالچوک میں مظاہرہ کیا اور قصوروار پولیس والوں کو سزا دینے کے لئے حکومت کو چوبیس گھنٹوں کی مہلت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ وادی میں احتجاجی تحریک چھیڑ دینگے۔ واضح رہے جنوری سے اب تک چار نابالغ لڑکے مظاہرین کے خلاف پولیس آپریشنوں میں مارے گئے ہیں۔
پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ سوموار کو ضلع کمشنر کے پاس پیش کیا۔ سرکاری ذرایع کا کہنا ہے پوسٹ مارٹم کے دوران طفیل کے سر سے ایسے آہنی ذرّے برآمد ہوئے ہیں جو اشک آور گیس کے گولوں میں ہوتے ہیں۔ تاہم ابھی تک حکومت نے اس بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔
اِدھر حکومت نے شہر میں پتھراؤ کے واقعات اور ان واقعات میں کم سن لڑکوں کی موت کے تسلسل کو سرینگر کے خلاف 'سازش' قرار دیا ہے۔ سینئر وزیرعلی محمد ساگر نے اس حوالے سے منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں بتایا: 'کچھ خفیہ قوتیں ہیں جو سرینگر میں گڑبڑ پھیلا رہی ہیں۔ ہم ان سب کو بے نقاب کردینگے۔'
تاہم اپوزیشن رہنما محبوبہ مفتی نے حکومت کی 'کانسپریسی تھیوری' کو حیلہ سازی کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔ محبوبہ نے بتایا پولیس اور نیم فوجی عملہ کو غلیل فراہم کرنے پر اپنے ردعمل میں بتایا کہ حکومت سیاسی عمل کو آگے بڑھانے اور انتظامیہ کو بہتر بنانے کی بجائے تشدد کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرینگر کے خلاف سازش کی بات کہہ کر حکمران جماعت نے ریاست میں علاقائی تناؤ کو بڑھاوا دیا ہے۔
ہڑتال، مظاہروں اور کرفیو کی وجہ عام زندگی معطل ہوکر رہ گئی ہے۔ لوگوں نے شادیاں اور دوسری اہم تقریبات منسوخ کردی ہیں اور یونیورسٹی، کالج اور دوسرے تعلیمی اداروں نے امتحانات کو ملتوی کردیا ہے۔ اس دوران پولیس شہر کے بیشتر مقامات سے درجنوں نوجوانوں کو 'احتیاطی حراست' میں لے لیا۔ کئی علاقوں سے باشندوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور نیم فوجی عملہ مکانوں کے شیشے، صحن میں رکھی گاڑیاں اور دوسری املاک کی توڑ پھوڑ کرکے لوگوں کو ہراساں کررہے ہیں۔















