بھارت کا پہلا فیل خانہ

ہاتھی کا بچہ
،تصویر کا کیپشنہاتھی سواری لے کر ایک دن میں چار چکر لگاتا ہے جس سے نو سو روپے یعنی بیس ڈالر کی کمائی ہوتی ہے: گپتا
وقت اشاعت

بھارت کے شہر راجستھان میں پہلی دفعہ ایک فیل خانہ بنایا گیا ہے جس میں ہاتھیوں اور ان کے دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے اکاون مکانات بنائے گئے ہیں۔

حکومت نے اس فیل خانے کے لیے جے پور میں تاریخی امر قلعے کے قریب زمین دی ہے۔ ہر سال چودہ لاکھ سیاح اس قلعے کی سیر کے لیے آتے ہیں۔

راجستھان کے وزیر سیاحت بینا کک نے ہفتے کے روز اس فیل خانے کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ یہ جانوروں کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے۔ وزیر سیاحت نے کہا کہ یہ گاؤں سیاحوں کے لیے پرکشش تفریحی مقام بنایا جائے گا اور محققین یہاں ان جانوروں کے بارے میں جان سکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا ’فی الحال یہاں پر اکاون ہاتھی رکھے گئے ہیں جبکہ باقی ہاتھیوں کے لیے بھی فیل خانے بنا دیے جائیں گے۔‘

امر قلعے میں ایک سو تیرہ ہاتھی ہیں جو سیاحوں کی تفریح کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہاتھیوں کے مالکان کی تنظیم کے نائب صدر شیام گپتا کے مطابق ہاتھی پر سواری بھارتی اور غیر ملکی سیاح دونوں ایک شاہانہ انداز سمجھتے ہیں اسی وجہ سے اس کی مانگ زیادہ ہے۔

گپتا کے مطابق ہاتھی سواری لے کر ایک دن میں چار چکر لگاتا ہے جس سے نو سو روپے یعنی بیس ڈالر کی کمائی ہوتی ہے۔ اس رقم میں سے دو سو روپے یعنی تقریباً ساڑھے چار ڈالر جانوروں کے تحفظ کے لیے دیے جاتے ہیں۔