سوپور: ہلاکتوں کے بعد کرفیو
بھارت کےزیر انتظام کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور میں مظاہرین کے خلاف پولیس اور نیم فوجی عملہ کی کارروائی میں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد قصبے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

ان ہلاکتوں کے خلاف علیٰحدگی پسندوں کی اپیل پر پورے کشمیر میں ہڑتال کی جارہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سوپور کے کرانکشون علاقہ میں لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے دو مقامی شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے اور باشندوں نے ان کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ کیا جس دوران پولیس اور فوج نے اپنے دفاع میں گولی چلائی اور دو شہریوں کی موت ہوگئی۔
مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ فوج اور پولیس نے مظاہرین کو اس وقت براہ راست گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ مارے گئے شدت پسندوں کی لاش کا مطالبہ کررہے تھے۔
حکام نے مظاہروں کے خدشے کے تحت سوپور میں کرفیو کا اعلان کردیا ہے۔ اس دوران میرواعظ عمر اور سید علی گیلانی کی سربراہی والے علیٰحدگی پسند گروپوں کی کال پر پوری وادی میں ہڑتال کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ بارہ جون کو سرینگر میں پولیس کی طرف سے آنسو گیس پھینکنے کی کارروائی میں طفیل احمد متو نامی ایک سترہ سالہ طالب علم ہلاک ہوگیا تھا جبکہ کئی دوسرے نوجوان زخمی ہوگئے۔
زخمیوں میں سے رفیق بنگرو نے بیس جون کو ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ اس کی ہلاکت کے خلاف سرینگر کے صفاکدل میں مظاہرے ہوئے جن پر نیم فوجی عملہ نے فائرنگ کی اور بنگرو کا اٹھارہ سالہ خالہ زاد بھائی جاوید ملہ گلے میں گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران ہڑتالوں اور سکیورٹی پابندیوں کی وجہ سے سرینگر اور دیگر اضلاع میں زندگی متاثر رہی۔
حالات بحال کرنے کے لیے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے مقامی پولیس میں تبادلے کیے ہیں۔ سرینگر میں پولیس کے سربراہ سمیت سولہ افسروں کو تبدیل کیا گیا ہے۔ عمرعبداللہ اور ان کی کابینہ نے کئی بار بیان دیا کہ ’کچھ سازشی عناصر نہیں چاہتے کہ کشمیر میں امن اور ترقی فروغ پائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم اپوزیشن جماعتیں خاص طور پر پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے الزام عائد کیا ہے کہ عمرعبداللہ نے لوگوں پر جنگ مسلط کی ہوئی ہے اور عام لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔
وکلاء کی تنظیم بار ایسوسی ایشن اور میرواعظ عمرفاروق نے وزیراعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ میرواعظ نے جمعہ کو جامع مسجد میں خطبہ کے دوران کہا کہ ’جب لوگوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہو، عمرعبداللہ کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا۔‘
اس دوران کئی اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے حالات کو نظرانداز کرنے پر وزیراعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔عمر عبداللہ نے پچھلے دو ہفتوں میں بیشتر عرصہ لداخ اور گلمرگ میں گزارا۔ اخبارات اور اپوزیشن کی طرف سے شدید تنقید کے بعد سنیچر کو وزیراعلیٰ نے اپنی رہائش گاہ پر تمام وزرا، پولیس افسروں اور خفیہ اداروں کے سربراہوں کا اجلاس طلب کیا جس میں صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔



















