عمر عبداللہ کی مکمل حمایت: منموہن

 چدامبرم نے بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
،تصویر کا کیپشن چدامبرم نے بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
وقت اشاعت

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک ہنگامی اجلاس میں وزیر اعظم من موہن سنگھ کی سربراہی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری عوامی احتجاج پر غور کے بعد ریاستی حکومت عمر عبداللہ کے اقدامات کی مکمل حمایت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ اجلاس وزیر اعظم منموہن سنگھ کی رہائش گاہ پر ہوا جس کے بعد حکومت نے کہا ہے کہ وہ بھارت کے زیر انتطام کشمیر میں موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزیر اعلی عمر عبداللہ کے تمام اقدامات کی حمایت کرتی ہے ۔

اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا کہ شورش زدہ وادی کے بعض علاقوں میں شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ سرگرم ہے ۔’ہمارا خیال ہے کہ یہ لشکر طیبہ ہے جو سوپور میں سرگرم ہے ۔ دو شدت پسند جو پچیس جون کو مارے گئے تھے ان کا تعلق بھی لشکر طیبہ سے تھا ۔‘

انہوں نے شورش زدہ وادی میں حالیہ دنوں میں سیکیوریٹی فورسز کی فائرنگ میں نوجوانوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سی آر پی ایف کو ہدایت کی ہے وہ انتہائی تحمل سے کام لے ۔’تاہم اگر ریاستی حکومت کرفیو نافذ کرتی ہے تو سی آر پی ایف ریاستی پولیس کی مدد کرے گی اور کرفیو پر عمل لازمی ہے ۔‘

مسٹر چدامبرم نے امید ظاہر کی کہ کوئی بھی امر ناتھ یاترا میں خلل نہیں ڈالےگا ۔ انہوں نے کہا ’امرناتھ کے زائرین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔ مناسب تعداد میں سیکیوریٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ کوئی اس میں معمولی سی بھی خلل ڈالنے کی کوشش نہیں کرے گا ۔‘

مرکزی حکومت نے وزیر اعلی عمر عبداللہ کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لیے کہا ہے تاکہ سیکیوریٹی فورسز کے اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاسی اقدامات بھی کیے جا سکیں ۔

لیکن جب ایک صحافی نے مسٹر چدامبرم سے بری فوج کے سربراہ وی کے سنگھ کے اس بیان کے بارے میں پوچھا جس میں انہوں نے سیاسی اقدامات کرنے پر زور دیا ہے تو وزیر داخلہ نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔