مزید علاقوں میں کرفیوتاہم مظاہرے جاری

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جمعے کو مزید کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ دارالحکومت سرینگر میں مسلسل تیسرے روز بھی کرفیو نافذ ہے جبکہ جنوبی قصبہ اننت ناگ میں کرفیو کا آج دسواں دن ہے۔
دس روز قبل یہاں تین نو عمر لڑکوں کو نیم فوجی دستوں نے ان کے گھر کے صحن میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا تب سے آج تک وہاں حالات معمول پر نہیں آئے ہیں۔
<link type="page"><caption> فوج کیوں مسئلے کا حل نہیں: این ڈی پنچولی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2010/07/100709_nd_pancholi_interview.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> مظاہروں اور پتھراؤ میں نوجوان کیوں؟ ڈاکٹر محمود احمد خان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2010/07/100709_dr_mehmood_kashmir_situation.shtml" platform="highweb"/></link>
جنوبی کشمیر میں پلوامہ کے پورا علاقے میں کرفیو کی نافذ ہے جبکہ شمالی کشمیر کے کپوارہ ، ہندوارہ، بانڈی پورہ اور سو پور قصبوں میں کرفیو مسلسل جاری ہے۔
سرینگر کے نزدیک گاندر بل، کنگن اور کرہامہ علاقے میں بھی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ گاندر بل وزیراعلی عمر عبداللہ کا حلقہ انتخاب ہے۔
کرفیو کے باعث آج پرانے سرینگر میں واقع جامع مسجد میں نماز جمعہ نہیں ادا کی جا سکی۔ لیکن شہر کے بعض علاقوں کی چھوٹی مساجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئي۔
درگاہ حضرت بل میں مقامی باشندوں کو نماز کے لیے آنے دیا گیا تھا لیکن آس پاس کی بستیوں سے نماز کے لیے کوئی بھی نہیں آسکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نماز کے بعد آستانہ عالیہ میں کشمیر کی آزادی کے بارے میں نعرے بازی بھی ہوئی، بعد میں لوگ جب باہر آئے تو پولیس نے کچھ جوانوں کو حراست میں لے لیا۔
وادی کے کئی مقامات پر جہاں کرفیو نافذ ہے، نماز جمعہ کے بعد مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ کپوارہ میں عیدگاہ سے ایک جلوس بھی نکالا گیا۔ پولیس نے اسے منتشر کرنے کے لیے اشک آور گولے داغے اور ہوا میں گولیاں چلائیں۔
حکومت کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وادی میں کل یعنی ہفتہ کو ’معراج عالم ‘ ہے۔ اس خصوصی عبادت کے لیے وادی کے اطراف سے لوگ آکر درگاہ عالیہ میں شب بیداری کرتے ہیں۔
اس تقریب کے پیش نظر حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کرفیو میں نرمی کی جائے یا نہیں۔
مسلسل کرفیو کے سبب آج دوسرے روز بھی سرینگر سے کوئی اخبار نہیں نکل سکا ہے۔ جمعے کوصحافیوں کے کرفیو پاس جاری کردیے گئے ہیں جو پہلے منسوخ کر دیے گئے تھے۔
ادھر فوج کی تعیناتی کے سوال پر کئی بھارت نواز اور علیحدگی پسند تنظیموں نے مخالفانہ رد عمل ظاہر کیا ہے۔
مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما محمد یوسف تاری گامی کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے پاکستان اور کشمیر قیادت سے بات چیت ملتوی کر دی ہے اس لیے لوگوں میں مایوسی ہے اور یہ صورت حال اسی کا نتیجہ ہے۔



















