کشمیر: کرفیو، ہلاکتوں میں بھارتی وفد کی آمد

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں دلّی سے کُل جماعتی وفد کی آمد سے چند گھنٹے قبل فورسز کی تازہ فائرنگ سے ایک اور خاتون ہلاک اور تین زخمی ہسپتال میں دم توڑ گئے، اس طرح وادی میں گزشتہ تین ماہ ہلاک ہونے والوں کے تعداد ایک سو آٹھ ہوگئی ہے۔
وادی میں سخت ترین کرفیو اور ہلاکتوں کی فضا میں حکومت ہند اور بھارتی حزب اختلاف کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اتوار سے سرینگر کادو روزہ دورہ شروع کررہا ہے۔

وفد کی آمد پر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔اتوار کو علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے ’نارملسی‘ کی کال کے باوجود سرینگر اور دوسرے بڑے قصبوں میں سخت ترین کرفیو نافذ کر دیا گیا۔
اس دوران سنیچر کو وفد کی آمد کے چند گھنٹے قبل فورسز کی تازہ فائرنگ میں ایک پچیس سالہ خاتون ہلاک جبکہ مظاہرین پر فائرنگ میں زخمی ہونے والے تین مزید نوجوانوں نے بھی دم توڑ دیا ہے۔
خاتون کی ہلاکت کا واقعہ شمالی قصبہ سوپور میں پیش آیا جہاں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قصبہ کی شاہراہ پر واقع نتھی پورہ بستی کے لوگ کرفیو کی سختیوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے کہ نیم فوجی دستوں نے ان پر براہ راست فائرنگ کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پچیس سالہ مُبینہ اپنے ہی گھر کے صحن میں گولی لگنے سے ہلاک ہوگئی۔ اس واقعہ میں دو مظاہرین زخمی ہوگئے۔
واضح رہے کہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے نئی دلّی سے آنے والے اعلیٰ سطحی وفد اتوار سے سرینگر کا دوروزہ دورہ شروع کررہا ہے۔ یہ وفد یہاں سیاسی اور عوامی حلقوں سے ملاقا تیں کر گا۔
مقامی وکلا کی تنظیم کشمیر بار ایسوسی ایشن نے کل جماعتی وفد کے دورے کو 'غیرقانونی' قرار دیا ہے جبکہ سید علی گیلانی، جو موجودہ تحریک کی قیادت کررہے ہیں، وفد کے ساتھ بات چیت کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔
میرواعظ عمرفاروق اور محمد یٰسین ملک نے ابھی اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر وفد کے لئے مختلف عوامی اور تجارتی وفود کے ساتھ ملاقات کا انتظام کیا جارہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دوران کشمیر فورسز کی جانب سے فائرنگ کے واقعات جاری ہیں۔
ہسپتال حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل کرفیو اور کشیدگی کی وجہ سے ہنگامی علاج کے لیے ضروری ادویات کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے اور زخمیوں کو بچانا مشکل ہو رہا ہے۔
سرینگر کے مختلف ہسپتالوں میں فی الوقت تیس افراد زیر علاج ہیں یہ سبھی مظاہرین یا جنازوں پر فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہوگئے تھے۔
ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف عید سے اب تک دو سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں تاہم انہیں ابتدائی علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ عید کے بعد فورسز نے مظاہروں کو دبانے کی جو نئی حکمت عملی شروع کی ہے اس میں پچھلے چھ روز کے دوران اب تک دو درجن افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جون سے جاری شورش میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو ایک ہوگئی ہے۔



















