بابری فیصلہ مؤخر۔۔۔

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ایودھیا
  • وقت اشاعت

’اس ساٹھ سالہ پرانی لاش کو کسی طرح بھی دلی نہ لے جانے دیا جائے۔ اگر یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تو ایک بار پھر اس تنازعے پر سیاست کا بازار گرم ہو جائے گا اور اس کا نقصان مسلمانوں کو ہی ہو گا‘۔

یہ بیان ہے ایودھیا کے باشندے اور بابری مسجد مقدمے کے اصل درواست گزار ہاشم انصاری کا جو ساٹھ برس سے اس تنازعے کا مقدمہ لڑتے لڑتے اب نوے برس کے ہو گئے ہیں ۔انہوں نے یہ بیان سپریم کورٹ کے ذریعے بابری مسجد تنازعے کے ہائی کورٹ کے فیصلے پر ایک ہفتے تک روک لگانے سے کچھ دیر پہلے دیا تھا ۔

بی جے پی کے رکن پارلیمان اور رام مندر تحریک کے ایک سخت گیر رہنما ونے کٹیار کا کہنا تھا کہ عدالت جو بھی فیصلہ دیتی یہ مسلئہ بات چیت سے ہی حل ہونا ہے اور مرکزی حکومت اگر چاہے گی تبھی بات چیت کی راہ ہموار ہو سکے گی۔

ہائی کورٹ کا فیصلہ جمعرات کو آنا تھا اور بدھ کی دوپہر تک ایودھیا شہر میں بڑے پیمانے پر سکیوریٹی فورسز تعینات کر دی گئی تھیں۔ ہر طرف سے امن کی اپیلیں ہو رہی تھیں اور انتظامیہ لوگوں کو یقین دلانے میں لگی ہو ئی تھی کہ صورتحال خراب نہیں ہونے دی جائے گی۔

لیکن فیصلہ مؤخر ہونے سے پورے ایودھیا میں مایوسی چھا گئی۔ مقامی لو کوں کا کہنا تھا کہ اس تنازعے پر فیصلہ آنے کے اعلان سے پہلے ہی کافی نقصان ہوا ہے اور اب ایک بار پھر ان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے گی ۔

ایک نوجوان وویک سنگھ کا کہنا تھا کا وہ بچپن سے اس تنازعے کو دیکھتا اور سنتا چلا آیا ہے اور وہ مزید نہیں چاہتا کہ اس کا شہر اس مسئلے میں پھنسا رہے ۔

مسلمان بھی فیصلے پر روک لگانے سے پریشان ہیں۔ محمد عاصم کی طرح بیشتر مسلمانوں کو یقین تھا کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔ ان کا خیال ہے کہ اس مرحلے پر جب اگلے دن فیصلہ دیا جانا ہے اس پر روک لگانے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔

فیض آباد کے مقامی صحافی ارشد افضال کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ پہلے جتنا پیچیدہ تھا آچ بھی اتنا ہی پیچیدہ ہے ’منہدم مسجد کے مقام پر جو عارضی مندر 1992 میں بنادیا گیا ہے اسے اب ہٹانا ممکن نظر نہیں آتا۔ اس لیے اس کا آخری فیصلہ تو بات چیت کے ذریعے ہی نکالنا ہے۔ لیکن عدالت کا فیصلہ آنے سے محض ایک دن پہلے اس پر روک لگ جانے سے یہ مسئلہ ایک بار وہیں پہنچ گیا جہاں برسوں پہلے تھا۔ بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد بھی کی جا سکتی تھی‘ ۔

متنازعہ رام جنم بھومی مندرکے بڑے پجاری آچاریہ ستیندر داس نے اس نامہ نگار کو بتایا کہ جب تک مرکزی حکومت کوشش نہیں کرے گی یہ مسلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مندر بننے کے سلسلے میں اب تک جو بھی قدم ممکن ہوئے ہیں وہ حکومت کی ہی کوششوں سے ممکن ہوئے ہیں۔

ایودھیا نہ صرف یہ کہ عدالت کے فیصلے کے لیے تیار تھی بلکہ فضا میں کسی طرح کی کشیدگی کے بھی کوئی آثار نہیں تھے۔ اب اگلے ہفتے پھر ایودھیا کے باشندے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ ایودھیا ایک بار پھر سیکیوریٹی کے حصار میں ہو گی اور عقیدت مند احتیاط کے طور پر کسی اور وقت یہاں آنا چاہیں گے۔ ایودھیا کے باشندے مندر کے حق میں ضرور ہیں لیکن وہ وقت کے اس بھنور سے اب نکلنا چاہتے ہیں۔