تعلیم کے لیے ’بھیک‘

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
- وقت اشاعت
انجینیئر اور پروفیسر سندیپ منوہر دیسائی ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں کندھے پر بیگ لٹکائے اور ڈبہ ہاتھ میں لیے لوگوں سے چندہ دینے کی اپیل کرتے ہیں تاکہ غریب طلباء کے لیے وہ سکول قائم کر سکیں۔
سندیپ نے ٹرین میں پیسے مانگ کر اب تک چار لاکھ روپے جمع کر لیے ہیں، ایک سکول چلایا ہے اور اور کہتے ہیں کہ ابھی مزید مدد درکار ہے۔
ممبئی کی لوکل ٹرین جس میں پورا ہندوستان سفر کرتا ہے یعنی ہر فرقہ، ہر قوم، ہر ذات اور تقریباً ہر ریاست کے باشندے ممبئی میں رہائش پذیر ہیں ان کے لیے ممبئی کی لوکل ٹرین سفر کا بہترین اور آسان ذریعہ ہے اس لیے سندیپ منوہر دیسائی نے لوکل ٹرین میں سفر کرتے مسافروں سے مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

سندیپ ممبئی کے مضافاتی علاقے گوریگاؤں میں رہتے ہیں۔ ہر روز دوپہر کے وقت وہ گوریگاؤں سے چرچ گیٹ کے لیے ٹرین کے سیکنڈ کلاس ڈبے میں سوار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مراٹھی، ہندی اور پھر انگلش میں لوگوں کو بتاتے ہیں کہ تعلیم ہمارے ملک کی ترقی کے لیے بےحد ضروری ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ریاست کا ہرغریب بچہ تعلیم حاصل کر سکے اس لیے وہ ایسے غریب بچوں کے لیے سکول قائم کرنا چاہتے ہیں اور تعلیم کے لیے دیا گیا عطیہ دنیا کا سب سے بہترین عطیہ ہے۔
سندیپ کے مطابق وہ جیسے ہی وہ اپنی تقریر ختم کرتے ہیں لوگ انہیں پچاس پیسہ سے کبھی کبھی ہزار روپے تک عطیہ میں دیتے ہیں۔ اپنے ساتھ وہ اپنی سکول کے تمام متعلقہ کاغذات انکم ٹیکس کی فائل وغیرہ لے کر چلتے ہیں، اکثر لوگ ان سے ان کے اصل ہونے کی تصدیق چاہتے ہیں اور تب انہیں وہ یہ سب دکھا کر مطمئن کرتے ہیں۔
لیکن یہ آسان کام نہیں ہے۔ سندیپ کہتے ہیں کہ ان کے لیے اس طرح ٹرین میں چندہ یا سخت لہجے میں کہہ لیجئے ’بھیک‘ مانگنا بہت مشکل تھا۔ پہلے دن وہ بہت دیر تک خود کو اس کے لیے تیار کرتے رہے لیکن ’پھر میں نے خود کو سمجھایا کہ یہ میں اپنے لیے نہیں بلکہ ایک نیک اور بڑے مقصد کے لیے مانگ رہا ہوں بس اس خیال کے آتے ہی میں سب کچھ بھول گیا۔‘
لوگوں کی تیکھی نظروں اور انہیں نظروں ہی نظروں میں جھوٹا سمجھنے والوں کا بھی انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے۔سندیپ کہتے ہیں کہ ’کچھ بیزاری سے دیکھتے ہیں تو کچھ کے نزدیک میں ان کے لیے دیگر مانگنے والوں کی ہی طرح ایک انسان ہوں لیکن میں اسے نظر انداز کر دیتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں سچا ہوں اور میرا مقصد نیک ہے۔‘

سندیپ انجینئر ہیں اور انہوں نےبحیثیت پروفیسر کچھ عرصہ تک ایس پی جین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمینٹ اینڈ ریسرچ میں لیکچر بھی دیے۔ لیکن پھر سماجی خدمت کے لیے انہوں نے اپنی ملازمت چھوڑ دی۔ سندیپ کہتے ہیں کہ سماجی خدمت کا جذبہ انہیں ان کی ماں سُدھا دیسائی سے ملا جو خود بھی ایک ٹیچر تھیں۔ سندیپ جس علاقے میں رہتے ہیں، وہ زیادہ تر کچی بستی والا علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں مسلمان اور دیگر فرقے کے لوگ رہتے ہیں۔ سندیپ کے مطابق ان کی والدہ نے انہیں نصیحت کی کہ اگر غریبوں کے لیے کچھ کرنا ہے تو پھر اپنے گھر یعنی اپنی بستی سے ہی شروع کرو۔ اس لیے سندیپ کا ایک پرائمری سکول ایرانی واڑی میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سندیپ نے یہاں انگریزی میڈیم کا سکول کھولا ہےاور یہ ان کے لیے حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ حکومت مہاراشٹر انگریزی میڈیم کے سکولوں کو مالی تعاون نہیں دیتی ہے۔
سندیپ کا یہ سکول پہلی سے چوتھی جماعت تک کے بچوں کے لیے ہے اور اس سکول میں فی الحال سڑسٹھ بچے زیر تعلیم ہے۔
سندیپ کے اس سکول میں کئی اساتذہ ہیں جنہیں وہ ماہانہ تنخواہ دیتے ہیں اور یہ سب کچھ ان کے ساتھی پروفیسرز کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ سندیپ کے مطابق وہ اور ان کے مزید دو ساتھی پروفیسرز بڑی بڑی تجارتی کمپنیوں میں لیکچر دیتے ہیں اور ان سے ملنے والی رقم سے وہ سکول چلانے لگے۔ اب سندیپ نے مہاراشٹر کے ضلع رتناگری میں سکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ زیادہ تعداد میں گاؤں کے غریب طلباء کو تعلیم مہیا کرائی جا سکے۔
زمین ان کی اپنی موروثی ہے جسے ان کی والدہ نے سکول قائم کرنے کے لیے وقف کر دی ہے۔ ان کے علاوہ دیگر بھائی بہنوں نے بھی اس میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عمارت کے قیام کے لیے فنڈ کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے چندہ جمع کرنے کا یہ انوکھا طریقہ ڈھونڈھ نکالا۔
سندیپ چاہتے ہیں کہ لوگ مالی امداد کے ساتھ ہی اپنا قیمتی وقت بھی غریب طلباء کے لیے وقف کریں اور اس میں بھی سندیپ کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ٹرین میں وہ چندہ کے ساتھ پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نوجوانوں اور بزرگوں سے بچوں کو تعلیم دینے کی بھی اپیل کرتے ہیں اور اس طرح اب تک ان کے سکول کو پندرہ والنٹیئر مل چکے ہیں۔
تو کیا حکومت کی جانب سے کچھ مالی امداد نہیں ملتی؟ اس پر سندیپ کا کہنا تھا کہ حکومت مہاراشٹر کے پاس جب بھی کوئی انگریزی میڈیم سکول کھولنے کے لیے سرٹفکیٹ حاصل کرنے کی عرضی دی جاتی ہے، حکومت کی ایک شرط ہوتی ہے کہ انگریزی میڈیم کے سکول کو مالی تعاون نہیں دیا جائے گا۔ سندیپ کو حکومت کے رویہ پر افسوس ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انگریزی زبان آج کے دور کی اہم ضرورت ہے اس لیے حکومت کو اس بارے میں اپنے بنائے اصول پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔



















