کشمیر: 'سکول چلو' کال ناکام، اساتذہ گرفتار

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
- وقت اشاعت
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ساڑھے تین ماہ سے معطل تعلیمی نظام کو بحال کرنے کی سرکاری کوشش سخت ترین کرفیو اور علیٰحدگی پسندوں کی بائیکاٹ کال کی وجہ سے تقریباً ناکام ہوگئی ہے۔
تاہم پولیس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ وادی کے تمام تعلیمی اداروں میں پیر کے روز معمول کی سرگرمی بحال ہوگئ ہے۔
واضح رہے حکومت نے ستمبر اور اکتوبر کے لئے امتحانات کا اعلان کرتے ہوئے اساتذہ کو سخت تاکید کی تھی کہ وہ سکولوں میں حاضر رہیں۔ پیر کے روز پولیس اہلکار مختلف سکولوں میں اساتذہ کی حاضری لے رہے تھے اور نوجوان سکولوں کے باہر مظاہرے کررہے تھے۔
اُدھر بارہمولہ کے کریری قصبہ میں پولیس نے تعلیمی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کے لئے تین اساتذہ کو گرفتار کرلیا۔ اساتذہ کی انجمن ٹیچرس فورم نے ان گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔
حکومت کی 'سکول چلو' کال اور علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے بائیکاٹ کی تلقین کے بعد پیر کی صبح والدین تذبذب میں تھے۔
اکثر علاقوں میں سخت کرفیو کی وجہ سے بچے سکول نہیں گئے، تاہم بستیوں میں قائم سرکاری سکولوں میں بھی صرف اساتذہ ہی موجود تھے۔
دریں اثنا سرینگر کے بمنہ اور پام پورہ میں مظاہرے ہوئے اور پولیس کی فائرنگ میں دو افراد زخمی ہوگئے۔ بمنہ میں پولیس نے نوجوانوں کی ایک ٹولی کا لاٹھی چارج کیا۔
یہ نوجوان سڑک پر روکاوٹیں کھڑا کررہے تھے۔ اس دوران جنوبی قصبہ پام پورہ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے ہوا میں فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں دو افراد زخمی ہوگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرینگر کے نواحی علاقہ چھانہ پورہ میں لڑکیوں کے لئے مخصوص سینئرسیکنڈری سکول، جہاں ایک ہزار طالبات زیرتعلیم ہیں، کے استاد منظور احمد ڈار نے بتایا: 'ہم لوگ تو بیچ میں پِس رہے ہیں۔ ہم جب یہاں آئے تو یہاں چار طالبات تھیں۔ پولیس بھی اندر آئی تھی، اور باہر سے مظاہرین نعرے بازی کررہے تھے۔ وہ چار طالبات واپس گھر چلی گئیں۔'
سرینگر کے تاریخی اسلامیہ کالج میں سبھی اساتذہ موجود تھے، لیکن طلبا کا نام و نشان نہیں تھا۔
ایک پروفیسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا: 'میں جب گھر سے نکلا تو مجھے پچیس مرتبہ روکا گیا، حالانکہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ تعلیمی اداروں سے وابستہ اساتذہ اور دیگر سٹاف کے شناختی کارڑ کرفیو پاس تصور کئے جائینگے۔ ایسے میں طلبا کیسے آئینگے۔'
تعلیمی نظام کو بحال کرنے کے جبری منصوبہ پر سماجی حلقے حکومت کی نکتہ چینی کررہے ہیں۔ جموں کشمیر کے محکمہ تعلیم سے چالیس سال تک جُڑے رہے معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر آغا اشرف علی نے بتایا: 'جب حکومت ان ہی لوگوں سے ڈرنے لگے جنہوں نے اس کے لئے ووٹ ڈالے ہوں، تو پھر بچوں کے سکول جانے میں بھی سیاست ہوتی ہے۔'
اُدھر بارہمولہ میں نامعلوم مسلح افراد نے حکومت کے وزیر کے رشتہ دار غلام محی الدین کو ایتوار کی شب اس کے گھر میں گولی مار کر ہلاک کردیا۔



















