سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم

بابری مسجد۔رام جنم بھومی معاملے پر سپریم کورٹ اس فیصلے کا سبھی سیاسی پارٹیوں نے خیر مقدم کیا ہے جس میں عدالت نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ بابری مسجد معاملے پر اپنا فیصلہ سنائے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ نے اعلان کیا ہے کہ تیس ستمبر دوپہر تین بجے کے قریب وہ اپنا فیصلہ سنائے گا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے تھوڑی دیر بعد کانگریس پارٹی کے ترجمان جناردھن دویودی نے صحافیوں نے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔اور اس ملک کے سبھی شہریوں کو عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت عوام سے اپیل کرتی ہے وہ امن و امان قائم رکھیں۔
حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے اس کے بعد عوام کو امن قائم رکھنا چاہیے۔
انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا جو فیصلہ ہے وہ ایک صحیح قدم ہے اور ’ہم تو ہمیشہ یہی چاہتے تھے کہ بابری معاملے پر فیصلہ آیا‘۔
اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر لیڈر کلیان سنگھ کا کہنا ہے کہ ’یہ کروڑوں ہندوؤں کے عقیدے اور مذہبی جذبات کا معاملہ ہے۔ نہ یہ بات چیت سے حل ہوگا نہ عدالتوں سے حل ہوگا‘۔
انکا کہنا تھا کہ ’معاملہ صرف ایک طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان اپنے دعویٰ سے دستبردار ہوجائیں یا پھر پارلیمان میں قانون بناکر اس زمین کو حاصل کرلیا جائے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بابری مسجد کے مقدمے کے اصل درخواست گزار ہاشم انصاری کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا ہندو اور مسلمان خیر مقدم کر تے ہیں ’لیکن یہ معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ سے آگے نہیں جانا چاہیے۔ اسے یہی حل کرلینا چاہیے‘۔
سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ ’بابری مسجد کے مقدمے کے فیصلے کو ہندو یا مسلمان کے حق میں نہ سمجھ کر ملک کے مفاد میں سمجھا جائے‘۔
انکا مزید کہنا تھا ’فریقین کے درمیان بات چیت ہائی کورٹ کے فیصلے بعد ہوسکتی ہے۔‘
اکھل بھارتی ہند مہاسبھا کے صدر سوامی چکر منی کا کہنا تھا ’فیصلے میں تاخیر کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بات چیت کی پہلے کوششیں کی گئی ہیں اور اب فریقین کو عدالت کا فیصلہ قبول کرنا چاہیے‘۔



















