بابری مسجد فیصلے سے قبل سخت سکیورٹی

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنایودھیا میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات ہیں
وقت اشاعت

بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعے پر الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ کے فیصلے سے قبل بھارت بھر میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

عدالت جمعرات تیس ستمبر کو ساڑھے تین بجے اپنا فیصلہ سنائے گی۔

<link type="page"><caption> ایودھیا فیصلے سے قبل ممبئی میں سخت سکیورٹی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2010/09/100929_photo_mumbai_security.shtml" platform="highweb"/></link>

بھارتی وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا ہے کہ انہوں نے سلامتی امور کا جائزہ لیا ہے اور وہ سکیورٹی کے انتظامات سے مطمئن ہیں۔

بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ریاست اترپردیش میں اس وقت ایک لاکھ نوے ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں اور ریاستی حکومت حالات پرگہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی یہ اعلان کیا ہے کہ وہ فیصلے کا خیر مقدم کرے گی اس لیے انہیں ان ریاستوں میں حالات بہتر رہنے کی امید ہے۔

ادھر لکھنؤ میں حکام نے حفاظتی بندو بست کے لیے بعض سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے اور لکھنؤ اور دیگر شہروں میں فورسز نےگشت بڑھا دیا ہے۔

پی چدامبرم
،تصویر کا کیپشنسلامتی امور کا جائزہ لیا ہے اور سکیورٹی انتظامات سے مطمئن ہوں:چدمبرم

فیصلے سے قبل لکھنؤ ہائی کورٹ کے احاطہ کو زبردست حفاطتی حصار میں لے لیا گیا ہے اور تیس ستمبر کو لکھنؤ بنچ میں صرف مقدمےکے فریقین اور ان کے وکلاء کو ہی آنے کی اجازت ہو گی تاہم کسی کو بھی عدالت کے کمرے میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

فیصلے کے موقع پر صحافی اور دیگر وکلاء بھی اس عدالت میں داخل نہیں ہو سکیں گے اور ہائیکورٹ کے حکم پر ضلع انتظامیہ نے کلکٹریٹ کے احاطے میں صحافیوں کے لیے انتظام کیا ہے۔

ہائیکورٹ کا فیصلہ عام کرنے کے لیے ایک خصوصی ویب سائٹ تخلیق کی گئی ہے جس پر فیصلے کا خلاصہ ، فیصلے پر عملدرآمد کا متن اور مکمل فیصلہ موجود ہو گا۔ عدالت کی طرف سے جاری کیےگئے ایک نوٹ میں صحافیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جب تک فیصلے کی نقل اور اس کا متن خود نہ پڑھ لیں تب تک وہ عدالت کے فیصلے کے بارے میں کسی طرح کی قیاس آرائی نہ کریں۔

حکومت نے اشتعال انگیز اور ہیجان کن پیغامات روکنے کے لیے موبائل فونز پر اجتماعی یا بلک ایس ایم ایس اور ایم ایم ایس وغیر بھیجنے پر تیس ستمبر تک روک لگا دی تھی اور اس میں مزید توسیع پر غور کیا جا رہا ہے۔

مرکزی حکومت نے مدد کیے لیے فضائیہ سے پہلے سے ہی تیار رہنے کو کہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فورسز کی تعیناتی فوری طور پر کی جا سکے۔ اس کے علاوہ پولیس اور پیراملٹری فورسز کو بھی کو تیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

ریاست مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور کرناٹک کے بعض حساس علاقوں میں جہاں گڑ بڑ کے خدشات ہیں، خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ دارالحکومت دلی میں دولت مشترکہ کھیلوں کے سبب پہلے ہی سے زبردست سکیورٹی کے انتظامات ہیں اور شہر میں اس وقت تقریبا ڈیڑ لاکھ سے زائد حفاظتی عملے کے لوگ موجود ہیں۔

ادھر ایودھیا میں بھی سکیورٹی کے انتطامات چوکس کر دیےگئے ہیں اور ہزاروں سکیورٹی اہلکار اس وقت ایودھیا اور فیض آباد کے اہم مقامات پر تعینات ہیں۔ ایک مقامی صحافی نے ایودھیا سے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہیلی کاپٹر بھی فضاء میں پرواز کر رہے ہیں اور دریائےگھاگھرا میں مسلح نیم فوجی دستے موٹر بوٹوں پرگشت کر رہے ہیں۔

ایودھیا، فیض آباد اور اس کے اطراف کے شہروں میں کسی طرح کی کشیدگی کا ماحول نہیں ہے اور شہروں و گاؤں میں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے لیکن بیشتر افراد نے آئندہ دو تین دنوں کے لیے احتیاط کے طور پر اپنا سفر موخر کر دیا ہے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنملک کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کو چوکس کر دیا گیا ہے

جمعرات کے تاریخ ساز فیصلے اور اس پر مقامی لوگوں کا رد عمل جاننے کے لیے بڑی تعداد میں صحافی لکھنؤ اور ایودھیا پہنچ چکے ہیں ۔

ٹی وی چینلوں کی ایسو سی ایشن نیوز براڈ کاسٹرز ایسو سی ایشن نے بھی ٹی وی چینلوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بابری مسجد رام مندر کے تنازعے کے ہر پہلو کر بہت حساس طریقے سے اس طرح پیش کریں کہ اس سے فضا خراب نہ ہو۔ حکومت نے ذرائع ابلاغ کی خبروں اور تبصروں پر نظر رکھنے کے لیے پی آئی بی یعنی ’پریس انفارمیشن بیورو‘ کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو مختلف میڈیا اداروں کی کوریج پر ہمہ وقت نظر رکھےگا۔

ایسوسی ایشن نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ وہ فیصلے کی کوریج کے دوران بابری مسجد کے انہدام اور فیصلہ آنے کے بعد احتجاج یا خوشی منانے کے مناظر نہ دکھائیں۔ اس دوران اخبارات میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی جانب سے ایک اپیل شائع کی گئی ہے جس میں ملک کے عوام سے ہر حالت میں امن برقراررکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔