قصاب: تنہائی میں ملنے کی درخواست مسترد

قصاب کے وکیل امین اور فرحانہ
،تصویر کا کیپشندونوں وکیلوں نے ممبئی ہائی کورٹ میں موت کی سزا کو چیلنج کیا ہے
وقت اشاعت

عدالت نے ممبئی حملوں کے مجرم اجمل امیر قصاب کی وکیل فرحانہ شاہ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے اپنے موکل کے ساتھ تنہائی میں ملنے کی اجازت مانگي تھی۔

جسٹس رنجنا دیسائی اور جسٹس وی آر مورے پر مشتمل ممبئی ہائی کورٹ کی ڈیویژن بینچ نے شاہ کی اپیل کو خارج کر دیا اور کہا کہ وہ اپنے موکل سے جیل حکام اور افسران کی موجودگی میں ہی ملاقات کر سکتی ہیں۔

شاہ کی اس پیل پر سرکاری وکیل اجول نکم نے سخت اعتراض کیا تھا اور عدالت میں سی سی ٹی وی فٹیج پر مشتمل ایک سی ڈی پیش کی تھی جس میں مبینہ طور پر دکھایا گیا تھا کہ قصاب نے یکم ستمبر کو ایک جیل افسر پر حملہ کیا تھا۔

سی ڈی پیش ہونے کے بعد ججوں نے فیصلہ بدھ تک کے لیے ملتوی کر دیا تھا ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی دیکھنے کے بعد ہی فیصلہ سنائیں گے۔

ججوں نے اپنے فیصلہ میں ممبئی کرائم برانچ کو سخت ہدایت دی ہے کہ یہ سی ڈی کسی بھی طرح ذرائع ابلاغ میں نشر نہ ہو سکے اس کی سخت حفاظت کے احکامات بھی صادر کیے ہیں۔

فرحانہ شاہ نے عدالت کے سامنے اپیل داخل کی تھی کہ انہیں ان کے موکل سے ملاقات کے دوران جیل افسران اور سیکوریٹی عملہ کو اتنی دور رکھا جائے کہ وہ ان کی گفتگو نہ سن سکے۔ شاہ کا کہنا تھا کہ ان کی موجودگی میں ان کا موکل کھل کر ان سے بات نہیں کر پاتا ہے۔

ادھر بدھ کے روز ہی اجمل امیر قصاب کے دفاعی وکلاء نے قصاب کی موت کی سزا کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ سرکار کی جانب سے قصاب کے وکیل ایڈوکیٹ امین سولکر اور فرحانہ شاہ نے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی ہے۔

اس اپیل میں قصاب کی موت کی سزا کو سرے سے خارج کرنے کے لیے اس کے دفاع میں ستاون نکات پیش کیے گئے ہیں۔ اٹھائیس صفحات پر مشتمل اپیل میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کے دوران چند نقائص کی نشاندہی کی اور اسی کی بنیاد پر اس سزا کو ختم کرنے کا دعوی پیش کیا ہے۔

وکلاء نے قانونی دلائل پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے موکل قصاب کا مجسٹریٹ کے سامنے جو بیان لیا گیا تھا اس کے کچھ حصے عدالت نے قبول کیے لیکن کچھ کو قبول نہیں کیا تھا، اس لیے یا تو ان کا بیان پورا کا پورا لیا جائے یا پھر اسے پوری طرح مسترد کیا جائے۔

اجمل امیر قصاب
،تصویر کا کیپشنممبئی کی ذیلی عدالت نے قصاب کو ممبئی حملوں کے جرم میں موت کی سزا سنائی تھی

موت کی سزا پر وکیل امین سولکر کا کہنا تھا کہ عام طور پر اقبالیہ بیان کسی بھی ملزم کے اعتراف جرم کے طور پر لیا جاتا ہے لیکن اس کیس میں قصاب کے بچپن ان کے خادان کا پس منظر اور دیگر غیر متعلقہ معاملات کا احاطہ کرتا ہے۔ قصاب کی سزا میں مجسٹریٹ کے سامنے دیےگئے ان کے اقبالیہ بیان کو کافی اہمیت دی گئی تھی۔

اپنی دوسری دلیل میں وکلاء نےایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں گواہان نے اگر قصاب کو پہچانا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی تصویر تمام ٹی وی چینلز اور اخبارات میں نشر کی جا چکی تھیں۔ وکلاء کا مطالبہ تھا کہ ایسے افراد کی گواہی کو خارج کیا جائے۔

اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ جس وقت ہندستان پر حملہ ہوا تھا، ہوٹل تاج اور ناریمان ہاؤس پر پولیس نے پاکستان سے آنے والی کالز پر حملہ آروں کی گفتگو ٹیپ کی تھی لیکن قصاب کی اس طرح کی کوئی گفتگو کسی سے نہیں ہوئی ہے۔

وکلاء نے پولیس کے ذریعہ ضبط کردہ سم کارڈز پر بھی سوالیہ نشان لگایا ہے کہ عدالت میں جو سم کارڈز پیش کیے گئے تھے وہ خراب حالت میں تھے اس لیے ان کی کوئٰی اہمیت نہ مانی جائے۔

ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے مخصوص جج ایم ایل تہیلیانی نے قصاب کو اس سال موت کی سزا سنائی تھی۔

جسٹس رنجنا دیسائی اور جسٹس وی آر مورے پر مشتمل ہائی کورٹ کی ڈیویژنل بینچ کے سامنے اس اپیل پر سماعت سات اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

اس دوران متعلقہ حکام سینٹرل آرتھر روڈ جیل اور ہائی کورٹ تک ویڈیو کانفرنسنگ کے انتظامات میں مصروف ہیں کیونکہ قصاب کی سکیورٹی کے پیش نظر کیس کی سماعت کے لیے انہیں عدالت نہیں لایا جائےگا۔