بابری مسجد فیصلے سے قبل امن کی اپیل

ریاست اترپردیش کی ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ کچھ دیر بعد ہی بابری مسجد رام جنم بھومی کے تنازعہ پر فیصلہ سنانے والی ہے۔
ہندوستان میں یہ مقدمہ گزشتہ ساٹھ برسوں سے شہ سرخیوں میں رہا ہے اس لیے اسے ملک کا طویل ترین تنازعہ کہا جاتا ہے۔
اس موقع پر حساس علاقوں سمیت پورے ملک میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔
فیصلہ آنے سے پہلے حکومت اور ملک کے سبھی طبقوں نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔ سیاسی جماعتوں اور مختلف تنظیموں نے بھی اس بارے میں کھل کر بیانات دیے ہیں۔

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا: ’ہم جانتے ہیں کہ اس بہت ہی حساس مسئلے پر عدالت کی غیر جانبداری کو قبول کرنے کی عوام نے خواہش ظاہر کی ہے۔‘
بھارتیہ جنتا پارٹی کے بھی کئی رہنماؤں نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔ خاص طور پر گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔
مسلم پرسن لاء بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس، سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفر یاب جیلانی اور دیگر مسلم رہنماؤں نے بھی فیصلے سے قبل علحیدہ علحیدہ بیان جاری کیا ہے جس میں عدالت کے فیصلے کا احترام کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں آئے تو وہ اس پر خوشی کے اظہار کے لیے کوئی ہنگامہ نا کریں اور اگر ان کے حق میں نا ہو تو اسے احترام سے تسلیم کریں اور کوئی بھی غیر قانونی قدم نا اٹھایا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ہندو نواز تنظیمیں جیسے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور ہندو سبھا نے بھی امن کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ قانون کا احترام کیا جائیگا۔ دونوں فریق پر امید ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں ہی آئےگا۔
مختلف ریاستوں میں اس موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور میڈیا کی جانب سے بھی احتیاطی تدابیر اپنائی جا رہی ہیں۔
تمام ٹیلی ویژن چینلز نے بذات خود یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کوئی بھی اشتعال انگیز بیان نشر نہیں کریں گے اور ایسی تصویریں بھی نہیں دکھائی جائیں گی جن سے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔
مختلف میڈیا ادارے امن کے لیے خصوصی پروگرام نشر کر رہے ہیں جس میں بالی وڈ کے ستارے امن کی اپیل کر رہے ہیں۔
شاہ رخ خان اور امیتابھ بچن سے لیکر نئی نسل کے رنبیر سنگھ جیسے اداکار مختلف ٹیلی ویژن شوز میں عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کر رہے ہیں۔



















