فیصلہ قانون، تاریخ یا عقیدے کی بنیاد پر؟

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
بابری مسجد حق ملکیت کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے متنازعہ اراضی تقسیم کی گئی ہے۔
پہلا حصہ قانون کی بنیاد پر ہے اور اس میں صرف ایک ہی اہم سوال کا جواب دیا گیا ہے: جس جگہ بابری مسجد تعمیر تھی، وہ دراصل کس کی ملکیت ہے؟ چونکہ عدالت کے مطابق کوئی بھی فریق یہ ثابت نہیں کرسکا کہ اس اراضی پر اس کا کلی اختیار رہا ہے، لہٰذا اسے رام للا، نرموہی اکھاڑہ اور وقف بورڈ، تینوں میں برابر برابر تقسیم کر دیا گیا۔
اور زمین حاصل کرنے والے تینوں فریق اس فیصلے سےمطمئن نہیں ہیں۔
دوسرا حصہ تاریخ پرمبنی ہے۔ یعنی مسجد کس نے تعمیر کرائی تھی، کب، کیا مسجد کی تعمیر کے لیے ہندوؤں کے مندر کو مسمار کیا گیا تھا اور کیا متنازعہ اراضی پر قائم عمارت واقعی ایک مسجد تھی؟ ان پیچیدہ سوالوں پر دو جج صاحبان کا خیال تھا کہ مسجد ایک مندر کو توڑ کر تعمیر کی گئی تھی جبکہ تیسرے جج نے کہا کہ مندر وہاں تھا ضرور لیکن پہلے سے گر چکا تھا، مسجد کی تعمیر کےلیے منہدم نہیں کیا گیا تھا۔
دو جج اس نتیجے پر پہنچے کہ انیس سو بانوے میں مسمار کی جانے والی عمارت مسجد ہی تھی یا پھرمسجد مانی جاتی تھی۔ تیسرے جج نے کہا کہ یہ عمارت اسلام کے اصولوں(مندر توڑ کر) کو نظر انداز کرتے ہوئے تعمیر کی گئی تھی، لہٰذا اسے مسجد نہیں مانا جاسکتا۔ اسی بنیاد پر یہ کہا جا رہا ہے کہ دو ججوں نے عمارت کو مسجد ماننے سے انکار کیا۔
اس معاملے میں اختلاف رائے کی گنجائش موجود ہے اور اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ ہائی کورٹ نے محکمہ آثار قدیمہ کی ایک متنازع رپورٹ کی بنیاد پر ایسی عمارت کو مسجد ماننے سےانکار کیا ہے جس میں صدیوں نماز پڑھی گئی۔
لیکن عدالت کا جو فیصلہ زیادہ تر قانونی ماہرین کی بھی سمجھ سے باہر ہے وہ ہندوؤں کے بھگوان رام کی جائے پیدائش کے بارے میں ہے۔
جسٹس خان نے اس بارے میں کہا کہ مسجد کی تعمیر کے بعد ہندو اس جگہ کی نشاندہی بھگوان رام کی جائے پیدائش کے طور پر کرنے لگے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس اگروال کے مطابق مسجد کے مرکزی گنبد کے نیچے کی جگہ ہی بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے جیسا کہ ہندوؤں کا عقیدہ ہے۔
اور جسٹس شرما کے مطابق متنازع اراضی ہی بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے۔
بنیادی سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ یہ فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا۔ کیا ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر اتنے وثوق کے ساتھ جائے پیدائش کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ یا عدالت عقیدے کی بنیاد پر بھی فیصلہ سنا سکتی ہے؟
بہرحال، فی الحال عدالت نے دو باتیں طے کر دی ہیں اور وہ یہ کہ ہزاروں سال پہلے بھگوان رام کا تاریخ میں اسی انداز میں وجود تھا جیسا کہ ہندو مانتے آئے ہیں اور یہ کہ وہ کہاں پیدا ہوئے تھے۔
سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن کے مطابق سوال صرف عقیدے کا ہی نہیں ہے، یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ اگر حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا کہ کس کو کتنی جگہ دینی ہے تو وہ یہ فیصلہ ضرور کرسکتی تھی لیکن کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں ہے۔
’پہلے تو یہ کہ ایسے سوال اپنے سامنے رکھنا کہ یہاں رام چندر جی کا جنم ہوا یا نہیں ہوا، لوگوں کو اس بات پر عقیدہ ہے یا نہیں ہے، یا پانچ سو سال پہلے جہاں مسجد بنائی گئی کیا پہلے وہاں کوئی مندر تھا، یا یہ مسجد اسلام کے اصولوں کے خلاف تھی، ایسے سوالوں پر اپنا فیصلہ دینا بالکل غلط ہے اور قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔‘
پرشانت بھوشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ’یہ فیصلہ قانون کے نظریہ سے سپریم کورٹ میں نہیں ٹک سکتا۔۔۔ اگر عقیدے کی بنیاد پر فیصلے آنے لگے تو آگے چل کر ملک کے سیکولر تانے بانے کو بہت خطرہ لاحق ہوگا۔‘
سپریم کورٹ کے ایک اور سرکردہ وکیل اور دستور ہند کے ماہر راجیو دھون کا کہنا ہے کہ یہ کچھ اس طرح کا فیصلہ ہے جیسا پنچائتیں سناتی ہیں۔ یہی رائے سینئر کونسل پی پی راؤ کی بھی ہے۔
راجیوں دھون کہتے ہیں کہ اس فیصلے نے انہیں حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ‘یہ فیصلہ پوری طرح ہندو فریقوں کے حق میں ہے۔۔۔ یہ بھی فراق دلی کی بات ہے کہ اس میں مسلم فریق کو بھی شامل کر لیا گیا ہے!’
یہ کیس تین مہینوں کے اندر سپریم کورٹ میں پہنچ جائے گا لیکن کوئی حتمی فیصلہ آنے تک عدالت کے اس حیرت انگیز فیصلے سے رام کی جائے پیدائش میں مسلم فریق ایک تہائی کا حصیدار رہے۔



















