’ کشمیر میں غیر اعلانیہ مارشل لاء ہے‘

- مصنف, پرویز بخاری
- عہدہ, سینئر صحافی، سرینگر
- وقت اشاعت
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے طول و عرض میں ماہِ جون سے شروع ہوئی عوامی تحریک کو، جس کے دوران ایک سو دس افراد ہلاک ہوگئے، بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا میں خاطر خواہ جگہ ملی۔ لیکن اس عرصے کے دوران مقامی صحافیوں اور صحافتی اداروں کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا اور جس طرح انہیں دنیا کے اس طویل ترین متنازع خطے میں نشانہ بنایا گیا، اس کی طرف نہ بھارت اور نہ بین الاقوامی سطح پر کوئی خاص توجہ مرکوز کی گئی۔
بیرونی دنیا کو شاید معلوم نہیں کہ نامہ نگاروں اور فوٹو جرنلسٹوں کو کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر کی حدود میں بھی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ اکثر واقعات میں پولیس اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مقامی صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے وقت تشدد کا نشانا بنایا، انہیں جسمانی اور نفسیاتی طور پر زخمی کیا گیا اور ان کے سازوسامان کی توڑ پھوڑ کی گئی۔
بیسیوں ایسے واقعات میں صحافیوں کو بھارتی فورسز کے ہاتھوں پٹنے کے بعد ہسپتالوں میں داخل کرانا پڑا اور یہ سب کرفیو اور امن و قانون نافذ کرنے کے نام پر کیا گیا۔ مقامی صحافیوں کو وقتاً فوقتاً جو کرفیو پاس جاری کیے جا رہے ہیں وہ شاہراہوں اور گلی کوچوں میں تعینات پولیس اور بھارتی فورسز کے سامنے کاغذ کے بیکار ٹکڑے ثابت ہو رہے ہیں۔
سرینگر سے شائع ہونے والے اخبارات ماہ جولائی سے ستمبر کے آخر تک چودہ روز تک شائع نہیں کیے جا سکے۔ اس عرصے کے دوران سرینگر سے شائع ہونے والے روزناموں اور میگزینوں کی ترسیل میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالی گئیں اور یہ سب امن و قانون اور کرفیو نافذ کرنے کے نام پر کیا گیا اور اس دوران اخبارات کی غیر موجودگی میں عام لوگ انٹرنیٹ پر ہی انحصار کرتے رہے۔
جمعہ یکم اکتوبر کو اے پی ٹی این سے وابستہ ایک کیمرہ مین کو اپنے صحافی بیٹے کے ساتھ اس وقت بری طرح جسمانی اذیت سے دوچار کیا گیا جب باپ بیٹے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے جا رہے تھے۔ دونوں کو پولیس اہلکاروں نے ایک ناکے پر روک کر لاٹھیوں اور بندوق کے بٹوں سے اس قدر پیٹا کہ وہ لہولہان ہو گئے حالانکہ اُن کے پاس اپنے شناختی کارڈ اور وہ مخصوص رنگ کے کرفیو پاس بھی موجود تھے جو مقامی انتظامیہ کی طرف سے سبھی صحافیوں کو فراہم کیے گئے تھے۔
ایسی صورت حال میں سرینگر میں سرگرم صحافی اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیاں انجام دینے میں زبردست مشکلات کا شکار ہیں۔ وہ ان علاقوں میں جانے کے بارے میں صرف سوچ سکتے ہیں جہاں موجودہ شورش کے دوران عام لوگوں کو جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماہ جولائی میں پیدا ہونے والی صورت حال کے نتیجے میں وادی کے بہت سے علاقوں میں ابھی کوئی مقامی صحافی پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔

اعلیٰ انتظامی افسران بشمول ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے رویے پر صحافیوں سے معافی مانگی ہے اور انہیں یقین دلایا ہے کہ ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالنے کو یقینی بنایا جائے گا۔ تاہم زمینی سطح پر سکیورٹی فورسز ان یقین دہانیوں کو عملی جامہ نہیں پہناتیں اور میڈیا پر غیر تحریری اور نظر نہ آنے والی پابندیوں کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔
ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ فورسز منتخب حکام کے احکامات کو خاطر میں نہیں لاتیں۔ جب سرینگر سے شائع ہونے والے تمام اخباروں کو ضبط کیا گیا تو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایوان اسمبلی کو بتایا: ’ مجھے اس کا کوئی علم نہیں ہے اور یہ کارروائی پولیس نے اپنی سطع پر انجام دی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تازہ شورش کے دوران عام کشمیریوں کے بھارت مخالف جذبات پورے عروج پر ہیں اور متنازع خطے میں اس وقت کم و بیش پانچ لاکھ بھارتی افواج اور پچھہتر ہزار نیم فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ ہزاروں مظاہرین بھاری تعداد میں تعینات ان فورسز کی موجودگی میں نکل کر بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے اہلکاروں پر شدید سنگباری کرتے ہیں۔ مظاہرین کو اپنا دشمن سمجھتے ہوئے اکثر اوقات پولیس اور فورسز اہلکار ان کے خلاف وہی سلوک کرتے ہیں جس کو نئی دلی میں قومی مفاد میں قرار دیا جاتا ہے۔
سرکاری فورسز بمقابلہ عام شہری کے اس تنازع کے دوران مقامی نامہ نگاروں، فوٹو گرافروں اور وڈیو گرافروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان میں بیشتر کا کہنا ہے کہ فورسز انہیں بھارت مخالف کارکن تصور کرتی ہیں اور ان کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جا رہا ہے جو ان مظاہرین کے ساتھ کیا جا رہا ہے جو بھارت سے مکمل آزادی چاہتے ہیں۔
اس کے برعکس جو نامہ نگار بھارت کے مختلف صحافتی اداروں کے لیے کام کرتے ہیں اور جن کے شناختی کارڈوں پر بھارت کے علامتی نشان ہوتے ہیں، ان کو فورسز کبھی کبھی اپنے لوگ تصور کرتی ہیں۔ تاہم زیادہ کشیدہ حالات کے دوران ان پیشہ وروں کو بھی ان کے شناختی کارڈوں پر موجود خصوصی نشان نہیں بچا سکتے اور انہیں بھی نیم فوجی اہلکاروں کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مجھے کئی مرتبہ فورسز کے اہلکاروں نے مختلف ناکوں پر روک کر آگے جانے کی اجازت نہ دیتے ہوئے بتایا: ’ہم نہیں جانتے کہ آپ کو کرفیو پاس کس نے جاری کیے ہیں، ہمیں اپنے افسروں نے واضح احکامات دے رکھے ہیں کہ میڈیا سے وابستہ کسی بھی فرد کو چلنے پھرنے کی اجازت نہ دی جائے۔‘

میڈیا حلقوں نے کئی بار سرکاری فورسز کے ہاتھوں ہراساں کیے جانے اور ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹوں کے خلاف احتجاج کیا لیکن ایسا کرنے سے بھی ان کے لیے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوئے۔ فوٹو جرنلسٹوں اور وڈیو گرافروں کو زیادہ دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ انہیں جائے وقوع پر پہنچنا ضروری ہوتا ہے جبکہ نامہ نگار حالات کے مدِ نظر مقامی لوگوں اور سرکاری افسران کے ساتھ فون پر ہی رابطہ کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ اس طرح نامہ نگاروں کو مناسب اور تفصیلی رپورٹ تیار کرنے میں زبردست دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر بھی حرف آنے لگا ہے کیونکہ وہ کسی بھی واقعہ کی آزادانہ چھان بین کرنے سے قاصر ہیں۔
وادیِ کشمیر گزشتہ پندرہ ہفتوں سے سخت کرفیو کی زد میں ہے، اس دوران عام لوگ اپنے آپ کو محصور سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی اپنی چاردیواریوں تک ہی محدود کیا گیا ہے۔ صورتِحال کا مشاہدہ کرنے سے لگتا ہے کہ وادیِ کشمیر میں ’غیر اعلانیہ مارشل لاء‘ نافذ ہے۔
ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کا سلسلہ سن دو ہزار آٹھ میں اس وقت شروع ہو گیا جب مسلم اکثریتی وادیِ کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں پرامن مظاہرین نے بھارت کے خلاف احتجاج کی راہ اختیار کی۔ ریاستی سرکار کی طرف سے ایک ہندو تنظیم کو سرکاری اراضی کا ایک وسیع حصہ منتقل کیے جانے کے خلاف وادیِ میں مذکورہ سال کے ماہِ اگست کے دوران ریکارڈ ساز عوامی اجتماعات ہوئے۔ ہندو تنظیم کو زمین کی منتقلی کو مسلم اکثریتی خطے میں ریاست کے اندر آبادی کا تناسب بگاڑنے کی ایک کوشش کے طور پر لیا گیا۔ سرکار نے بعد ازاں اپنا فیصلہ واپس لیا، تاہم اس سے قبل زبردست بھارت مخالف ریلیوں نے اہلیانِ وادی میں ’آزادی‘ کی ایک نئی روح پھونک دی۔
مذکورہ ریکارڈ ساز عوامی اجتماعات کو سرکار نے بعد میں ساٹھ سے زائد شہریوں کی ہلاکت کے ذریعے کچل دیا۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے اطراف و اکناف میں آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف ایک بار پھر مظاہروں کا سلسلہ سن دو ہزار نو کے موسم گرما میں اس وقت شروع ہوگیا جب جنوبی قصبہ شوپیاں میں وردی پوش اہلکاروں نے دو جواں سال خواتین کو مبینہ طور پر اغواء کرنے کے بعد اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کیا۔
اس واقعہ کے بعد پوری وادی میں احتجاجی مظاہروں کا ایک لامتناعی سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہاں تک کہ شوپیاں ضلع میں انصاف کی فراہمی اور مجرموں کی نشاندہی، نیز انہیں سزا دینے کے حق میں سینتالیس روز تک تالہ بند ہڑتال کی گئی۔ دوہری عصمت دری وقتل کے اس مبینہ واقعہ کو بعد میں بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی کو سونپ دیا گیا، جس نے خواتین کی ہلاکت کو غرقابی قرار دیکر کیس کی فائل بند کروائی۔ عوامی حلقوں اور مقامی صحافیوں کو اول روز سے ہی اس کیس پر پردہ ڈالنےکا شبہہ پڑ رہا تھااور انہوں نے فورسز کی ’سزا سے بریت‘ کے بارے میں سوالات اٹھائے۔

کشمیر میں تعینات بھارتی فورسز کو ایک طرح کا قانونی اختیار حاصل ہے تاکہ وہ ان مسلح جنگجوؤں کا مقابلہ کر سکیں جنہیں بھارت دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔ اب جبکہ مسلح جنگجوؤں کو بھارت کی مسلح فورسز نے تقریباً کچل کر رکھ دیا ہے اور ان کی جگہ اب عام اور غیر مسلح نوجوانوں نے لی ہے جو محض سنگباری پر انحصار کر رہے ہیں، بھارت کی فورسز ان غیر مسلح مظاہرین کے خلاف بھی پہلے کی ہی طرح طاقت کا استعمال کرتی ہیں۔
کشمیری نوجوانوں کی طرف سے بندوقوں کے بجائے پتھروں کے استعمال کے حق میں جوں جوں بحث و مباحثوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، بھارتی فورسز کے اوپر دباؤ میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ غیر مسلح سنگ بازوں کے خلاف گولیوں کے اس نامعقول استعمال سے بی ایس ایف اہلکاروں کے ہاتھوں ایک طالب علم کی ہلاکت، بعد ازاں ’فرضی‘ جھڑپ میں تین مزید شہریوں کے ہلاک ہونے اور مزید ایک طالب علم کی ہلاکت نے بھارت کے زیرِ انتظام اس ہمالیائی خطے میں عوامی مظاہروں کو ایک بار پھر جنم دیکر اس میں کافی جان ڈال دی۔
ماہِ جون سے اب تک وادی میں ایک سو دس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں اکثر طالب علم ہیں، جو غیر مسلح تھے اور اپنے ہاتھوں میں صرف پتھر اٹھائے ہوئے تھے۔ متعدد صحافیوں کا ماننا ہے کہ بندوق بمقابلہ پتھر کی اس مساوات میں فورسز کو ذرائع ابلاغ کی طرف سے دباؤ محسوس ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ فورسز اسی دباؤ کا نزلہ میڈیا اور اس سے وابستہ لوگوں پر گرا رہی ہیں۔



















