’مشرف کے بیان پر مناسب قدم‘

بھارت کی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کشمیری شدت پسندوں کی تربیت کے متعلق جو کچھ کہا ہے اس پر ’مناسب قدم اٹھا یا جائیے گا‘۔
بھارت میں اطلاعات و نشریات کی وزیر امبیکا سونی نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ں کہا ’میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کی کہ وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور وزیراعظم اس مسئلے سے نمٹنے میں ہر طرح سے تیار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بھارت یہ بات پہلے ہی سے جانتا ہے کہ یہ سچ ہے اور سرحد پار سے بھارت میں شدت پسندی کی حمایت جاری رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ بات سامنے آئی ہے کیونکہ ’پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے بھی اس بارے میں کچھ کہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ سرکار اس بارے میں درست اقدامات کریگی۔‘

پاکستان کے سابق فوجی حکمراں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے جرمنی کے ایک جریدے سے <link type="page"><caption> انٹرویو میں اعتراف کیا تھا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/10/101005_musharraf_kashmir.shtml" platform="highweb"/></link> کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کو فوجی تربیت دی تاکہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کے خلاف برسرِ پیکار ہو سکیں۔
جرمنی کے معروف جریدے ’ڈیر شپیگل‘ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے سکیورٹی فورسز کی ان سرگرمیوں کو نظر انداز کیے رکھا کیونکہ اس کی خواہش تھی کہ انڈیا ان کے ساتھ کشمیر پر مذاکرات کا آغاز کرے۔
بھارت ہمیشہ الزام لگاتا رہا ہے کہ پاکستان نوے کے عشرے میں سرکاری سطح پر شدت پسندوں کی تربیت میں عملی طور پر حصہ لیتا رہا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سینیئر پاکستانی رہنما نے اس نوعیت کا اعتراف کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















