فیس بک پرغیر شائستہ پیغامات، طلباء معطل

بھارت کے شہر چنڈی گڑھ میں سکول نے فیس بک پر ایک خاتون ٹیچر کے خلاف غیر شائستہ پیغامات لکھنے کے جرم میں سولہ طلباء کو معطل کر دیا ہے۔
سماجی نیٹ ورکنگ کے لیے مشہور ویب سائٹ فیس بک پر تبصرہ چنڈی گڑھ میں وی ویک سکول کے ایک طالب علم نے شروع کیا جو حساب میں کم نمبر ملنے کے سبب اپنے ٹیچر سے ناراض تھے۔
دیگر پندرہ کو معطلی کی یہ سزا مذکورہ طالب علم کو شہ دینے کے جرم میں دی گئی ہے۔
بھارت میں فیس بک بہت ہی مقبول حاض طور پر نوجوانوں کی پسندیدہ سائٹ ہے۔
سکول کے مینیجر کا کہنا ہے کہ ہائی سکول کے طالب علم آصف پرویز نے اپنے ٹیسٹ نمبرات کے ساتھ ایک تھریڈ پوسٹ کی شروعات کی تھی جس میں نازیبا اور غیر شائستہ باتیں بھی لکھی ہوئی تھیں۔
سکول کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ہی اس پوسٹ پر سکول کے سییئر طلباء نے بھی ٹیچر کے خلاف مستقل لکھنا شروع کر دیا۔ سکول کو اس کے بارے میں اتفاق سے ایک ہفتے بعد ہی پتہ چلا۔
ٹیچر نے اس کے متعلق سکول انتظامیہ سے شکایت کی جس پر انہیں معطل کر دیا گیا۔
سکول کے ڈائریکٹر ایچ ایس مانک کا کہنا ہے '' ہم ضوابط کی خلاف ورزی قطعی برداشت نہیں کریں گے۔ جو باتیں اس پر لکھی گئي ہیں وہ نا صرف منفی بلکہ نازیبا، غیر شائستہ اور گالی گلوج والی ہیں۔ ''
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تین ماہ معطلی کی سزا سے پہلے ان طلباء کے والدین سے سکول انتظامیہ نے انفرادی طور پر بات چیت بھی کی تھی۔
معطل شدہ طلباء کا کہنا ہے سکول انتظامیہ کی یہ کارروائی ان کی ذاتی زندگی اور اظہار رائے کے ان کے حق میں سرا سر مداخلت ہے۔ '' ایک طالبہ کے بقول '' سکول کو یہ حق نہیں ہے کوہ وہ ہماری ذاتی زندگی اور آن لائن میں جھانکے۔''
بیشتر والدین اس بات سے متفق ہیں کہ طلباء کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کی عزت کریں لیکن تین ماہ کی سزا کو وہ زیادہ بتا تے ہیں۔



















