بھارتی خواتین کا وفد سعودی عرب میں

سعودی سفیر
،تصویر کا کیپشنسیفر کے مطابق وفد سعودی خواتین کے کردار کو قریب سے دیکھ سکے گا
    • مصنف, اقبال احمد
    • عہدہ, بی بی سی دلی
  • وقت اشاعت

مسلم ممالک کی فہرست میں سعودی سماج کو سب سے زیادہ قدامت پسند ماناجاتا ہے اور خاص طور پر سعودی خواتین کے نام پر ذہن میں جو خاکہ بنتا ہے وہ سر سے پاؤں تک نقاب میں ڈھکی عورت کا ہوتا ہے۔

لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور اب وہاں بھی خواتین کے حقوق کی باتیں ہورہی ہیں۔

سعودی خواتین اب ملازمت کر رہی ہیں۔ پہلی بار ایک خاتون کو وزارت بھی سونپی گئی ہے اور نورا الفیض اس وقت سعودی عرب کی وزیر تعلیم ہیں۔

خواتین کی بدلتی اسی صورت حال کو قریب سے جاننے اور سمجھنے کی غرض سے بھارتی خواتین کا ایک وفد جمعہ کی شام کو سعودی عرب روانہ ہوا۔

یہ وفد سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین پر مشتمل ہے جس میں صحافی، سماجی کار کن ادیب اور دانشور شامل ہیں۔

بھارت میں سعودی عرب کے سفیر فیصل حسن تاراد نے بی بی سی کو بتایا '' اس وفد کے ذریعے ہم بھارت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو سعودی عرب دکھانا چاہتے ہیں۔ اس سے وہ سعودی سماج میں خواتین کے کردار کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گی اور وہ کیا اہم ذمہ داری نبھا رہی ہیں اسے بھی جان ساکیں گی۔''

سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ بھارت اور سعودی عرب کے برسوں پرانے رشتے ہیں اور اس وقت ڈھائی لکھ سے زیاد بھارتی شہری سعودیہ میں رہتے ہیں۔

اس وفد میں بھارت کی معروف سماجی کارکن مدھو کشور بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا وہ پہلی بار وہاں جارہی جس کے تئیں ان مین کافی جوش ہے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنسعودیہ میں خواتین عام طور پردہ کرتی ہیں

ان کا کہنا تھا '' اس سے ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ سعودی عرب کے متعلق ایک عام خیال یہ ہے کہ وہاں کا سماج خواتین کے حقوق کے حوالے سے دقیانوسی سوچ رکھتا ہے۔ اس دورے کے ذریعے شاید سعودی عرب اپنی ایک نئی شبیہ پیش کر کے دنیا کے ساتھ ایک نیا رشتہ قائم کرنا چاہتا ہے۔''

وفد میں شامل ایک دوسری خاتون صحافی اور رائٹر نیلوفر سہروردی کا کہنا تھا '' اس دورے میں سعودی عرب کے سماج میں خواتین کی صورت حال کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملیگا۔''

ان کے مطابق ہندوستان میں سعودی عرب کو تیل کے بازار یا حج کی زیارت کے روپ میں ہی دیکھا جاتا رہا ہے لیکن اس سے مکن ہے کہ نئے تجربات ہو سکیں۔

اس وفد میںدلی کے اندر پرستھا کالج کی پرسنپل ببلی موئترا، ڈیئزائنر مدھ راؤ پلاسٹک سرجن رشمی تنیجا اور صحافی لوئی خورشید شامل ہیں۔