’پیچیدہ مسائل پر جلد نتیجہ نکالنا غلط‘

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل میں مستقل رکنیت کے معاملے پر امریکہ کی طرف سے کھل کر حمایت نہ ملنے پر بھارت نے کہا ہے کہ یہ کافی پیچیدہ مسئلہ ہے جس پر اتنی جلدی کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے۔
بدھ کے روز بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت میں امریکی صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ مستقل رکنیت کا معاملہ ’ کافی مشکل اور پیچیدہ ہے‘۔
انہوں نے اس معاملے پر کھل کر کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ بھارت میں اس بیان کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔
امریکی صدر باراک اوباما کی آمد سے قبل خارجہ سیکریٹری نروپما راؤ نے دلی میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ عالمی سطح پر بھارتی تعاون کے متعلق امریکہ آگاہ ہے اور دونوں ملک انٹرنیشنل امور پر بات چیت کریں گے۔
نروپما راؤ نے کہا ’اگر اوباما اسے پیچیدہ کہتے ہیں تو وہ درست ہیں، ہمیں ان کے بیان سے ایسے نتائج ( کہ امریکہ بھارت کے حق میں نہیں ہے) نہیں اخذ کرنے چاہیئں‘۔
’دونوں ملکوں کی رائے ہے کہ تکنیکی شعبے کی برآمدات پر عائد پابندیوں پر از سر نو غور کیا جائے تاکہ انہیں پہلے کم کیا جا سکے اور بعد میں پوری طرح ہٹایا جا سکے‘۔
بھارتی خارجہ سیکریٹری کا کہنا تھا کہ امریکہ اور بھارت جوہری توانائی کے شعبے میں خرید و فروخت کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت امریکی وفد کو جوہری امور سے متعلق تمام طرح کی معلومات دے گا اور ان کے شکوک کو دور کرنے کی کوشش کرے گا۔ محترمہ راؤ کا کہنا تھا کہ کئی امریکی کمپنیاں جوہری توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت اس دورہ پر امریکی حکام سے ویزا کی فیس بڑھانے اور آؤٹ سورسنگ جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال کرےگا۔



















