ممبئی: اوباما کے دورے پر عوام کے تاثرات

کوثر الیاس
،تصویر کا کیپشنکوثر الیاس اوبامہ کی آمد سے کافی خوش ہیں
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

امریکہ کے صدر براک اوباما کی آمد پر اس وقت جنوبی ممبئی کے چند مخصوص علاقے پوری طرح پولیس، خفیہ ایجنسی اور سکیورٹی اہلکاروں کے نرغے میں ہیں۔

صدر کےاستقبال کی تیاریاں بھی مکمل ہو چکی ہیں اب صرف ان کی آمد کا انتظار ہو رہا ہے۔

بی بی سی نے زندگی کے ہر شعبے کے افراد سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ صدر کی آمد کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور ان کی امریکہ کے صدر اوباما سے کیا توقعات ہیں۔

الیکٹرانک انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہی کوثر الیاس شیخ صدر کی آمد پر بہت خوش ہیں۔’مجھے لگتا ہے کہ ہر نوجوان امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب ضرور دیکھتا ہے۔ وہ ملک آج ترقی یافتہ ملک ہے اور اس کی اقتصادی پالیسیاں پوری دنیا کو متاثر کرتی ہیں۔ میں امید کرتی ہوں کہ صدر اوباما ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدے کریں تاکہ ہمارا ملک بھی اتنی ترقی اور نام حاصل کرنے میں کامیاب ہو۔‘

انگریزی روزنامہ کے صحافی شیلیندر موہن امریکہ کے صدر اوباما کی ہندوستان آمد کو دو پہلو سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر سکیورٹی اور پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے نظریہ سے دیکھا جائے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا اوباما پاکستان پر کسی طرح کا دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو سکیں گے؟

اس کے علاوہ جیسا کہ سنا جا رہا ہے کہ امریکہ کے صدر یہاں امریکی کمپنیاں کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو دیکھنا یہ ہو گا کہ اس سے یہاں کے عوام کو کیا فائدہ ہو گا؟

موہن کے مطابق اس وقت ہندوستان پورے ایشیاء میں ایک بڑی طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔ چین کے بعد ہندوستان ایک جمہوری مستحکم ملک ہے اس لیے امریکہ کا ان حالات میں ہندوستان کی جانب دیکھنا سمجھ میں آتا ہے۔ بس ہمیں موقع کا فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔

کپڑوں اور الیکٹرانک اشیاء کے تاجر انور کھوت کو امریکہ کے صدر سے بہت سی توقعات ہیں۔ لیکن انہیں یہ پڑھ کر مایوسی ہوئی کہ امریکہ ہندوستان کے ساتھ کوئی اقتصادی پالیسی پر معاہدہ کرنے کے بجائے خود اپنے ملک اور اپنی عوام کے لیے ہندستان کو ایک بڑی مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

جنوبی ممبئی میں رہنے والی خاتون خان طاہرہ شیخ کو اس حد تک پولیس سیکورٹی پر غصہ ہے۔’ اگر امریکہ کے صدر آ رہے ہیں تو عوام کو تکلیف کیوں دیں۔ دیوالی کی تعطیل کی وجہ سے میں اپنے بچوں کے ساتھ گیٹ وے تفریح کے لیے گئی پتہ چلا اسے بند کر دیا گیا ہے کیونکہ صدر ہوٹل تاج میں ٹھہریں گے۔

’میں کہتی ہوں کہ اگر وہ ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں تو ہوٹل میں ان کی حفاظت کے انتظام کریں عوام کو تکلیف کیوں دیں؟ وہاں موجود پولیس کو دیکھ کر تو ایسا لگ رہا تھا جیسے ممبئی میں کہیں جنگ چھڑ گئی ہو اور پولیس نے ممبئی شہر کو گھیر لیا ہو؟ ایسی سکیورٹی ممبئی کے عوام کو دی جائے تو یہاں دہشت گرد حملے ہی نہ کریں۔‘