سابق آرایس ایس سربراہ کے خلاف کیس

بھارت میں کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے خلاف متنازعہ بیان دینے پر آر ایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سنگھ کے سابق سربراہ کے سدرشن کو اب قانونی طور پر جواب دینا پڑیگا۔
ریاست راجستھان میں جے پور کی ایک عدالت نے مسٹر سدرشن کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
بھوپال میں سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس کے سابق سربراہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کئی متنازعہ بیانات دیے تھے۔
انہوں نے مبینہ طور پر اپنے بیان میں حکمراں جماعت ’سونیا گاندھی کو سی آئی کے ایجنٹ بتایا تھا اور کہا کہ وہی بھارت کے سابق وزراء اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل کی ذمہ دار ہیں۔‘
کانگریس پارٹی کے ایک کارکن نے عدالت میں مسٹر سدرشن کے خلاف شکایت کی عرضی پیش کی تھی جس کے بعد عدالت نے اس معاملے میں مقدمہ درج کرنے کو کہا ہے۔
عرضی گزار اجے جین کا کہنا تھا ’ہماری شکایت یہ تھی کہ کے سدرشن نے دانستہ طور پر سونیا گاندھی کے خلاف یہ بیان دیا ہے تاکہ اس سے لوگوں میں بے چینی پیدا ہو اور ہنگامہ آرائی شروع ہوجائے۔ یہ قابل سزا جرم ہے۔‘

کانگریس پارٹی نے اس بیان پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان جناردن دویدی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’اس سے زیادہ غیر اخلاقی اور بدکلامی نہیں کی ہو سکتی۔ اس پر اگر کانگریس کے کارکنان بھڑک اٹھیں اور ہنگامہ آرائی ہو تو اس کی ذمہ دار آر ایس ایس ہوگي۔‘
اس بیان کے بعد سے ملک بھر میں کانگریس کے کارکنان کی طرف سے آر ایس ایس کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر آر ایس ایس نے مسٹر سدرشن کے اس بیان کو ان کی ذاتی رائے بتایا ہے اور کہا ہے کہ تنظیم سے اس بیان کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
آر ایس ایس کی حامی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی اس بیان سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔



















