نیرا راڈیا ٹیپس سپریم کورٹ میں پیش

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
انڈیا کی سپریم کورٹ کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے ’کارپوریٹ لابی اسٹ‘ نیرا راڈیا کی ٹیلی فون پر صحافیوں اور سیاست دانوں سے بات چیت کی اصل ریکارڈنگ عدالت میں جمع کر دی ہے۔
عدالت نے یہ حکم موبائل سروسز کے لائسنسوں کے اجرا میں ٹیلی مواصلات کے سابق وزیر اے راجہ پر بےضابطگیوں کے الزامات کے پس منظر میں دیا تھا۔
اے راجہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو کوڑیوں کے دام لائسنس جاری کر کے سرکاری خزانہ کو پونے دو لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔
راڈیا ٹیپس کیا ہیں؟
نیرا راڈیا ٹاٹا اور مکیش امبانی کے ریلائنس گروپ کے لیے کام کرتی ہیں اور ان کا ٹیلی فون محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔
ان کی بات چیت مہینوں تک ٹیپ کی گئی اور پھر اس کی تفصیلات پر اسرار طور پر ذرائع ابلاغ میں شائع ہونا شروع ہوگئیں۔ لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ٹیپ کس نے اور کیوں میڈیا کو فراہم کیے۔ بات چیت کے منظر عام پر آنے سے ناراض ہوکر رتن ٹاٹا نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
ہنگامہ کیوں ہے؟
اگرچہ اس وقت میڈیا کی نگاہیں وکی لیکس کے جاری کردہ خفیہ مراسلوں پر ٹکی ہوئی ہیں لیکن راڈیا ٹیپس بھی کچھ کم سنسی خیز نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیرا کی ملک کے کئی سرکردہ صحافیوں سے بات چیت کے بعد ان صحافیوں کو کئی الزامات کا سامنا ہے۔
مثال کے طور پر یہ کہ گزشتہ برس جب پارلیمانی انتخابات کے بعد مخلوط حکومت کی تشکیل کے دوران کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی چل رہی تھی، اس وقت ان صحافیوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا تھا۔ یعنی ایک طرح سے وہ ثالث کا کردار ادا کر رہے تھے۔

جہاں تک نیرا راڈیا کا سوال ہے، ان کی بات چیت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی ریاست تمل ناڈو کی علاقائی جماعت ڈی ایم کے کی جانب سے وزارتوں کی تقسیم کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دیگر ٹیپس میں وہ گیس کے مسئلہ پر مکیش اور انل امبانی کے درمیان تنازعہ میں میڈیا کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ڈی ایم کے کسی بھی قیمت پر ٹیلی مواصلات کا محکمہ حاصل کرنا چاہتی تھی جو بالآخر اس کے ایک رہنما اے راجہ کو ملا۔
راجہ پر الزام ہے کہ انہوں نے ’ٹو جی سپیکٹرم‘ کے لائسنس جاری کرنے میں ضابطوں کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی تھی۔ مواصلات کے شعبے میں ٹاٹا اور ریلائنس دونوں بڑے پلیئر ہیں۔
بڑے نام کون سے ہیں؟
ٹاٹا گروپ کے سربراہ رتن ٹاٹا سے نیرا راڈیا کی بات چیت تو ہنگامہ خیز ہی ہے، اصل ہنگامہ صحافیوں سے ان کی بات چیت پر ہے۔ ان میں سب سے مشہور این ڈی ٹی وی کی برکھا دت اور ہندوستان ٹائمز کے ویر سنگھوی ہیں۔
پربھو چاولا اور سہیل سیٹھ جیسے اور بھی کئی صحافیوں اور کالم نگاروں کے نام لیے گئے ہیں لیکن زیادہ ذکر برکھا اور ویر سنگھوی کا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ کانگریس میں اپنے تعلقات کا بے جا طور پر استعمال کر رہے تھے۔
ان ٹیپوں کے اجرا کے بعد کچھ عرصے تک تو میڈیا میں خاموشی رہی لیکن اب اس سوال پر بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا یہ صحافی پیشہ ورانہ حدود کو پار کر گئے تھے؟
اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے برکھا دت اور ویر سنگھوی دونوں نے ٹی وی پرگراموں میں حصہ لیا ہے لیکن کسی بے ضابطگی کے ارتکاب کا اعتراف نہیں کیا۔
بنیادی طور پر ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ نیرا راڈیا سے خبر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن انہیں زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا۔ ساتھ ہی ان کا یہ دعوی بھی ہے کہ بات چیت کے صرف کچھ حصے لیک کیے گئے ہیں جن سے سننے والوں کو غلط تاثر ملتا ہے کیونکہ انہیں مجموعی سیاق و سباق کا علم نہیں ہوتا۔
ویر سنگھوی نے اپنا کالم ’کاؤنٹر پوائنٹ‘ بند کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بارے میں انہوں نے نیرا راڈیا سے بات چیت کی تھی۔
عدالت نے ٹیپ کیوں طلب کیے ہیں؟
ٹو جی سپیکٹرم میں بدعنوانی کے الزامات کی سماعت کے دوران عدالت اس بات چیت کا بھی احاطہ کر سکتی ہے لیکن اسے فکر ہے کہ کہیں یہ ٹیپ ضائع نہ کردیے جائیں۔ ابھی ٹو جی کیس میں باقاعدہ طور پر کوئی مقدمہ قائم نہیں ہوا ہے کیونکہ تفتیش ابھی جاری ہے۔
لہذا سینیئر وکیل پرشانت بھوشن کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے عدالت نے ان ٹیپس کو محفوظ رکھنے کی غرض سے یہ حکم دیا ہے۔



















