بھوپال: انڈیا دوگنا معاوضہ چاہتا ہے

بھوپال گیس حادثہ: فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشناندازوں کے مطابق بھوپال گیس حادثے میں اب تک پچیس ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں
وقت اشاعت

انڈیا کی حکومت کوشش کر رہی ہے کہ بھوپال میں 1984 میں ہونے والے گیس لیک حادثے کا معاوضہ دوگنا ہو کر 1.1 ارب ڈالر ہو جائے۔

اٹارنی جنرل کے دفتر نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے کہ 1989 میں امریکی کیمیکل کمپنی کے ساتھ ہونے والے 470 ملین ڈالر کے معاہدے کی رقم دوگنی سے بھی زیادہ کر دی جائے۔

یہ درخواست اس وقت دی گئی ہے جب بھوپال گیس سانحہ کے 26 برس پورے ہونے کو ہیں۔

ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں یونین کاربائیڈ کے پلانٹ میں زہریلی گیس کے اخراج سے ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سال جون میں ایک انڈین عدالت نے بالآخر سات سابق مینیجروں کو قصور وار ٹھہرایا اور ان کو چھوٹی موٹی سزائیں سنائی گئیں۔

تاہم بہت سے متاثرین اور ان کے حق میں مہم چلانے والے یہ سمجھتے ہیں کہ یونین کاربائیڈ کے خلاف انصاف نہیں کیا گیا۔

ڈاؤ کیمیکلز جس نے 1999 میں یونین کاربائیڈ کو خرید لیا تھا، ماضی میں کہتی رہی ہے کہ 470 ملین ڈالر کا معاوضہ ’جائز اور حتمی‘ ہے۔

انڈیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ گیس لیک کے کچھ دنوں کے اندر اندر 3,500 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ اس کے بعد سے لے کر اب تک مرنے والوں کی تعداد 15,000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ جبکہ متاثرین کے حق میں مہم چلانے والے کہتے ہیں کہ حقیقت میں مرنے والوں کی تعداد 25,000 کے لگ بھگ ہے۔

انڈیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے فروری 1989 میں 470 ملین ڈالر کا یہ معاوضہ طے کیا تھا۔ ’یہ معاوضہ سچائی کے چند مفروضوں پر تھا اور اگر سچائی کے مفروضے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے تو معاوضے کی معقولیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔‘

انڈیا حکومت چاہتی ہے کہ اب معاوضے کو سو فیصد بڑھا دیا جائے۔