بنارس:’کچھ سکیورٹی نقائص ہو سکتے ہیں‘

اتر پردیش کی وزیرِ اعلیٰ مایا وتی نے سکیورٹی کے نقائص کی باتوں کو مسترد کر دیا ہے۔
،تصویر کا کیپشناتر پردیش کی وزیرِ اعلیٰ مایا وتی نے سکیورٹی کے نقائص کی باتوں کو مسترد کر دیا ہے۔
وقت اشاعت

بھارت کے وزیرِ داخلہ پی چدم برم نے عندیہ دیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ منگل کو ورانسی میں ہونے والے بم دھماکے کے پیچھے سکیورٹی کی کچھ کمزوریاں ہوں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے اتر پردیش کی پولیس کو ایک ممکنہ حملے کے بارے میں واضح اور خصوصی طور پر خبردار کیا تھا۔

<link type="page"><caption> </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2010/12/101207_banaras_pics_rza.shtml" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> دھماکے کے بعد کے مناظر کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2010/12/101207_banaras_pics_rza.shtml" platform="highweb"/></link>

ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر بنارس کے پاس جسے ورانسی بھی کہتے ہیں، شیتلا گھاٹ کے قریب بم دھماکہ ہوا ہے جس میں کم از کم چونتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

انڈین مجاہدین نامی ایک اسلامی گروپ کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے بعد پولیس نے دو افراد سے پوچھ گچھ کی ہے۔

گزشتہ روز کے دھماکے کے بعد بھارتی شہر میں پولیس کو چوکس رہنے کا حکم دیا گیا۔ اس دھماکے میں ایک لڑکی ہلاک اور چالیس افراد زخمی ہو گئے تھے جن میں چھ غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

دھماکہ خیز مواد دودھ کے ایک کنستر میں دریائے گنگا کے کنارے اشنان کے لیے مخصوص اس مقام پر چھپایا گیا تھا جہاں قریب ہی وشواناتھ کا مندر ہے اور جہاں عقیدت مند عبادت کی غرض سے جمع ہوتے ہیں۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے گھاٹ کے قریب ممکنہ دھماکے کے بارے میں مخصوص خفیہ اطلاعات ریاستی حکومت کو پہنچا دی گئی تھیں۔

ریاستی پولیس کو اتوار کے روز ایک مرتبہ پھر آگاہ کیا گیا تھا کہ حملے کا امکان ہے۔ چدم برم نے دھماکے کی جگہ کے دورے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’میرے خیال میں پولیس نے کچھ انتظامات بھی کیے تھے۔ لیکن سکیورٹی کے کچھ نقائص تھے۔‘

لیکن اتر پردیش کی وزیرِ اعلیٰ مایا وتی نے سکیورٹی کے نقائص کی باتوں کو مسترد کر دیا ہے۔