’تشدد سے من بھر گیا، اب امن کا پیغام‘

الطاف بٹ اپنے وفد کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنالطاف کا کہنا ہے کہ انہوں نے نادانی میں ہتھیار اٹھائے تھے
    • مصنف, نارائن باریٹھ
    • عہدہ, بی بی سی ، جے پور
  • وقت اشاعت

بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے سابق شدت پسند محمد الطاف بٹ امن اور بھائی چارے کا پیغام لے کر پیدل سفر پر نکلے ہیں۔

وہ پیدل گھوم کر لوگوں تک امن کا پیغام پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ اب تک ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرچکے ہیں۔

الطاف بٹ پاکستان کے زير انتظام کشمیر سے مبینہ طور پر تربیت لے چکے ایک سابق انتہا پسند ہیں مگر وہ اب وہ امن کے راستے پر ہیں۔

کبھی ان کے ہاتھ میں بندوق تھی لیکن اب امن کا پرچم ہے۔ الطاف بٹ بتاتے ہیں کہ ’وہ نا سمجھی کا دور تھا، جب میں دیکھتا تھا کہ میرے آس پاس کے لوگ دکھ اور ذلت کی زندگی گزار رہے ہیں تو میں نے ہتھیار اٹھا لیے۔میں ٹریننگ کے لیے سرحد پار کشمیر چلا گیا جہاں میں نے العمر مجاہدین کے ٹریننگ کیمپ میں تربیت لی۔ تین ماہ بعد میں کشمیر لوٹ آیا پھر دو سال جیل میں بھی رہا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ’ تشدد سے میرا من بھر گیا۔ کسی بھی بے گناہ کی جان لینا اسلام کے خلاف ہے۔‘

لیکن الطاف کے لیے تشدد چھوڑنے کے بعد بھی ایک کشمیری کی حیثیت سے زندگی جینا آسان نہیں تھا۔ انہوں نے دلی اور جیسلمیر میں کام کرنے کی کوشش لیکن ایک کشمیری ہونے کے ناتے انہیں کافی پریشانی کا سامنا ہوا۔’جب بھی پولیس سے مدد مانگی مجھے مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ پولیس نے ہمیشہ مجھ پر ہی شک کیا۔‘

الطاف مہاتما گاندھی سے بے حد متاثر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’میں نے جو راہ لے ہی وہ مشکل ہے لیکن اگر میں کشمیر میں مارا جاتا تو مجھے کوئی امن کا سپاہی نہیں کہتا۔‘

اپنے پیدل سفر کے دوران الطاف نوجوانوں اور عوام کو کشمیر مسئلے کے بارے میں بتاتے ہیں اور امن کی اپیل کرتے ہیں۔ الطاف کے ساتھ ان کے ساتھی بھی اس سفر میں ان کے ساتھ ہیں۔

مشہور سماجی کارکن کویتا شریواستو ان کے اس قدم کے بارے میں کہتی ہیں کہ ایسے ملنے جھلنے سے ایک دوسرے کے مسائل سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔