نیرا راڈیا کے مزید ٹیپ منظر عام پر

نیرا راڈیا
،تصویر کا کیپشنٹوجی سپیکٹرم بدعنوانی معاملے نیرا سے پوچھ گچھ کی گئی ہے
وقت اشاعت

بھارتی میگزین آؤٹ لک نے ’کارپوریٹ لابیئسٹ‘ یعنی کمپنیوں کے لیے عوامی رابطے کا کام کرنے والی خاتون نیرا راڈیا کی فون ریکارڈنگ کے مزید ٹیپ شا‏ئع کیے ہیں۔

میگزین کا کہنا ہے کہ ان ٹیپوں سے نیرا راڈیا کے کام کرنے کے طریقوں کا پتہ چلتا ہے۔

نیرا راڈیا بھارت کی دو بڑے صنعت کار، مکیش امبانی اور رتن ٹاٹا کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔

آؤٹ لک نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ نیرا ریڈا سے متعلق آٹھ سو مزید ٹیپ اس کے ہاتھ لگے ہیں۔ اس کے مطابق یہ ’ٹیپ بھی اس بات چیت کا حصہ ہیں جسے حکام کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل جو ایک سو چالیس ٹیپ جاری کیے گئے تھے یہ ان سے الگ ہیں۔‘

میگزین کے ایڈیٹر کرشن پرساد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان ٹیپس کا تعلق بھی اس بات چیت سے ہے جو دو ہزار نو میں منموہن سنگھ کی نئی حکومت کی تشکیل کے وقت کی گئی تھی۔

’یہ ٹیپ منموہن سنگھ کی کابینہ کی تشکیل اور ٹو جی سپیکٹرم بدعنوانی میں حکومت، بڑے تاجر گھرانوں اور میڈیا کے درمیان کھیل کی ایک خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں۔‘

اس کے مطابق سارا زور اس بات پر تھا کہ یو پی اے کی دوسری حکومت میں بھی ٹیلی مواصلات کے وزیر اے راجہ کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ ان ٹیپوں کے افشا ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی بھی داخل کی گئی ہے اور معاملہ عدالت کے سامنے ہے۔

ایک طرف جب حکومت نے عدالت میں داخل کیے گئے اپنے حلف نامے میں یہ کہا ہے کہ وہ پہلے شائع ہوئے ایک سو چالیس ٹیپ کو واپس حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ وہ سب کے سب شا‏ئع ہو چکے ہیں اور مختلف ویب سائٹوں پر گھوم رہے ہیں، ان نئے ٹیپ کے اجراء سے مزید ہنگامہ آرائی کی امکان ہے۔

رتن ٹاٹا نے عدالت سے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ فون ریکارڈنگ کی اشاعت کو فوراً روکا جائے۔

نیرا راڈیا ٹاٹا اور مکیش امبانی کے ریلائنس گروپ کے لیے کام کرتی ہیں اور ان کا ٹیلی فون محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔

ان کی بات چیت مہینوں تک ٹیپ کی گئی اور پھر اس کی تفصیلات پر اسرار طور پر ذرائع ابلاغ میں شائع ہونا شروع ہوگئیں۔ لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ٹیپ کس نے اور کیوں میڈیا کو فراہم کیے۔ بات چیت کے منظر عام پر آنے سے ناراض ہوکر رتن ٹاٹا نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

اگرچہ اس وقت میڈیا کی نگاہیں وکی لیکس کے جاری کردہ خفیہ مراسلوں پر ٹکی ہوئی ہیں لیکن راڈیا ٹیپس بھی کچھ کم سنسی خیز نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیرا کی ملک کے کئی سرکردہ صحافیوں سے بات چیت کے بعد ان صحافیوں کو کئی الزامات کا سامنا ہے۔