بھارت چین، تجارتی روبط فروغ دینےکا عزم

چین اور بھارت نے اپنے اقتصادی روابط کو زبردست فروغ دینے کے لیے سن دو ہزار پندرہ تک دو طرفہ تجارت کا ہجم سو ارب ڈالر تک پہنچانے کا عزم کیا ہے۔
لیکن سرحدی تنازعہ یا کشمیریوں کو علیحدہ کاغذ پر ویزا دیے جانے کے نازک سیاسی مسائل میں بظاہر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اور ان کے چینی ہم منصب وین جیا باؤ کے درمیان مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق باہمی کاروبار کو سو ارب ڈالر تک پہنچایا جائےگا اور چین تجارت میں عدم توازن کو ختم کرنے کی کوشش کرےگا۔ کاروبار کا موجودہ ہجم تقریباً ساٹھ ارب ڈالر ہے۔
بعد میں خارجہ سیکریٹری نروپما راؤ نے کہا کہ بھارت اپنی سافٹ ویئر اور ادویات بنانے والی کمپنیوں کے لیے چینی بازاروں تک بہتر رسائی چاہتا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازعہ پر صرف اتنا کہاگیا کہ اس مسئلہ کو پر امن مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جائے گا۔
وین جیاباؤ اور من موہن سنگھ نے میڈیا سے بات نہیں کی لیکن نروپما راؤ نے نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’کشمیر کا جو مسئلہ ہے اور پاکستان کی طرف سے ہم دہشتگردی کے جس خطرے اور چیلنج کا سامنا کرتے ہیں، اس کے بارے میں کافی گہری بات چیت ہوئی۔ چین کی اعلی قیادت کو ہماری پوزیش کے بارے میں اچھی طرح علم ہے، ہم نے شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔‘
لیکن اعلامیہ میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ دونوں ملک کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں اور یہ کہ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اعلامیہ میں کہیں بھی کشمیر یا پاکستان کا ذکر نہیں ہے لیکن نروپما راؤ کےمطابق بات چیت کےدوران خود چین کی جانب سے ویزوں کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔

دونوں نے ’افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی لانے میں اس کے ساتھ تعاون کرنے‘ کا بھی وعدہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین کی طرف سے پاکستان کو جوہری بجلی گھروں کی فراہمی پر نروپما راؤ نے کہا کہ چین اور بھارت دونوں جوہری اسلحہ کے پھیلاؤ کے خلاف ہیں اور اس سلسلے میں مذاکرات کا دائرہ وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ایک نظام موجود ہے اور اسی کے دائرہ کار میں بجلی گھروں کی فراہمی کے مسئلے کا احاطہ کیا جائے گا۔ بھارت کو دریائے برہم پترا پر چین کی جانب سے ڈیم کی تعمیر پر بھی تشویش تھی لیکن نروپما راؤ کے مطابق چین نے اس بات کی یقین دلایا ہےکہ اس سے بھارتی مفادات کو نقصان نہیں پہنچے گا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملک جوہری ہتھیاروں پر مکمل پابندی اور ان کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں اور’عالمی برادری کو جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے مل جل کر کوشش کرنی چاہیے۔‘
جمعرات کی صبح وزیر اعظم وین جیاباؤ نے اعتماد ظاہر کیا تھا کہ چین اور بھارت کے درمیان سٹریٹیجک امور پر اتفاق رائے قائم ہو جائے گا لیکن اعلامیہ میں اس کی کوئی جھلک نظر نہیں آئی۔ اس میں ان فوجی روابط کی بحالی کا بھی ذکر نہیں ہے جو ایک اعلی بھارتی فوجی افسر کو ویزا نہ دیے جانے کے بعد منقتع کر دیے گئے تھے۔
لیکن دونوں ممالک کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ وہ دوستی اور تعاون کی راہ پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور عالمی منظر نامے میں بیک وقت ’دونوں کی ترقی اور باہمی تعاون کی گنجائش موجود ہے۔‘
’مجھے اعتماد ہے کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ اور میری مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ہم اس دورے میں سٹراٹیجک امور پر اتفاق رائے قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘ چینی وزیر اعظم بھارت کا تین دورہ کر رہے ہیں اور جمعہ کو پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے۔
سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے دعوے پر بھی چین نے حسب توقع کوئی یقین دہانی نہیں کرائی، صرف انتا کہا کہ وہ بھارت کی آرزؤں کو سمجھتا ہے۔
نروپما راؤ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک ہاٹ لائن نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ اعلامیہ کہ مطابق دونوں ملکوں کے وزرا خارجہ ہر سال ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کریں گے۔
دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں بنکاری، ثقافت، آبی وسائل، میڈیا ایکسچینج اور گرین ٹیکنالوجوی کے بارے میں چھ معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے۔
وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان ایک مضبوط پارٹرشپ سے ایشیا اور باقی دنیا میں پائیدار امن، خوشحالی اور استحکام قائم ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق دونوں ملکوں کے تعلقات نے اب ’عالمی جہت اختیار کرلی ہے اور وہ سٹراٹیجک اہمیت کے حامل ہیں۔۔۔اسی پس منظر میں انہوں نے ‘سٹراٹیجک کمیونیکشن‘ کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔



















