اہلکاروں کے قتل کی سازش، تفتیش کا حکم

دلی میں ایک عدالت نے دو قیدیوں کے اس دعوے کی تفتیش کے احکامات دیے ہیں جس میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ جیل کے حکام نے انہیں کامن ویلتھ کھیلوں سے متعلقہ ان اہلکاروں کو قتل کرنے کے لیے کہا تھا جو جیل میں قید ہیں۔
اکتوبر میں دلی میں منعقد ہوئے دولت مشترکہ کھیلوں سے وابستہ تین سینیئر اہلکار ٹی ایس درباری، سنجے مہندرو اور ایم جے چندرن بھی مبینہ مالی خرد برد کے الزام میں اس وقت تہاڑ جیل میں قید ہیں۔
دلی کے مشہور تہاڑ جیل میں قید دو قیدیوں کا الزام ہے کہ انہیں ان اہلکاروں کو مارنے کے لیے جیل کے حکام نے چاقو اور ایک دیسی پستول فراہم کی تھی۔
تہاڑ جیل کے حکام نے قیدیوں کے اس دعوے کو بے بنیاد بتاکر مسترد کردیا ہے جبکہ عدالت نے اس الزام کی تفتیش کے لیے پولیس کو احکامات جاری کیے ہیں۔
تہاڑ جیل کے سینیئر افسر نیرج کمار نے ایک مقامی ٹی وی چینل سے بات چیت میں کہا ہے کہ ’دو قیدیوں نے جیل حکام کو دھمکی دینے کے لیے اس طرح کے الزامات لگائے ہیں کیونکہ وہ اس سیل ( ہائی سکیورٹی) سے دوسری جگہ منتقل ہونا چاہتے تھے‘۔
مسٹر کمار کا کہنا تھا کہ ان کے سیل کی تلاشی لی گئی جس سے ایسا کچھ بھی دستیاب نہیں ہوا ہے لیکن ذرائع ابلاغ میں شائع خبروں کے مطابق ان قیدیوں کے سیل سے ایک چاقو برآمد ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کامن ویلتھ کھیلوں میں ہوئی مبینہ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیےگئے سینیئر حکام بھی اسی سیل میں بند ہیں۔
دلی میں کرائےگئے کامن کھیلوں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں جن کی تفتیش جاری ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے اس کی تفتیش کے احکامات دیے تھے اور اس سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















